Aal-i-Imraan
Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.
Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21
مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ ٱللَّهُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحُكْمَ وَٱلنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا۟ عِبَادًا لِّى مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَـٰكِن كُونُوا۟ رَبَّـٰنِيِّـۧنَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ ٱلْكِتَـٰبَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ 79 وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُوا۟ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةَ وَٱلنَّبِيِّـۧنَ أَرْبَابًا ۗ أَيَأْمُرُكُم بِٱلْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ 80
نہیں ہے لائق واسطے کسی بشر کے کہ دے اس کو اللہ کتاب اور حکم اور نبوت، پھر کہے وہ واسطے لوگوں کے کہ ہو جاؤ تم بندے میرے، اللہ کو چھوڑ کر، لیکن (وہ تو کہے گا) ہو جاؤ تم رب والے، بوجہ اس کے کہ ہو تم تعلیم دیتے کتاب کی اور بوجہ اس کے کہ ہو تم (خود بھی) پڑھتے(79) اور نہیں حکم دے گا وہ تم کو اس بات کا (بھی) کہ بنا لو تم فرشتوں کو اور نبیوں کو رب، کیا وہ حکم دے گا تمھیں کفر کا، بعد اس کے کہ تم ہو چکے مسلمان؟(80)
[80-79] اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ نبیﷺنے کچھ اہل کتاب کو ایمان لانے اور اطاعت کرنے کی تبلیغ کی تو انھوں نے کہا: ’’محمد(ﷺ)کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ آپ کی بھی عبادت کیا کریں؟‘‘ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ فرمایا:﴿ مَا كَانَ لِبَشَرٍ ﴾ ’’کسی انسان کو یہ لائق نہیں‘‘ یعنی جس انسان پر اللہ تعالیٰ یہ احسان کرے کہ اس پر کتاب نازل کرے، اسے علم سکھائے اور مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجے، ایسے انسان کے لیے ناممکن اور محال ہے کہ ﴿ يَقُوۡلَ لِلنَّاسِ كُوۡنُوۡا عِبَادًا لِّيۡ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔‘‘ ایسی بات کا کسی نبی کی زبان سے ادا ہونا سب سے بڑی محال چیز ہے۔ کیونکہ یہ مطالبہ اتنا قبیح ہے کہ اس سے قبیح کوئی اور حکم نہیں ہوسکتا۔ اور انبیاء کرام کو کمال کا وہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ اس سے زیادہ کمال کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا۔ وہ حکم بھی ایسے کاموں کا دیتے ہیں جو ان کے حالات سے مناسبت رکھتے ہیں۔ وہ اعلیٰ کاموں کا حکم دیتے ہیں۔ اور برے کاموں سے منع کرنے میں بھی کوئی ان سے بڑھ نہیں سکتا، اس لیے فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ كُوۡنُوۡا رَبّٰنِيّٖنَ بِمَا كُنۡتُمۡ تُعَلِّمُوۡنَ الۡكِتٰبَ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَدۡرُسُوۡنَ﴾ یعنی وہ تو یہی حکم دیں گے کہ لوگ ربانی بن جائیں۔ ربانی کا مطلب یہ ہے کہ وہ عالم ہوں، دانا ہوں، حلم اور بردباری سے موصوف ہوں، لوگوں کو تعلیم دیں اور ان کی تربیت کریں، پہلے علم کے چھوٹے (اور آسان) مسئلے بتائیں۔ پھربڑے (اور پیچیدہ) مسائل سمجھائیں، خود بھی عمل کریں۔ چنانچہ وہ علم و عمل کا حکم دیتے ہیں۔ جس پر سعادت کا دارومدار ہے۔ جس میں کوئی چیز چھوٹ جائے تو نقص و خلل پیدا ہوجاتا ہے۔ ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تُعَلِّمُوۡنَ ﴾ میں ’’با‘‘ سببیہ ہے۔ یعنی تم ربانی بن جاؤ اس سبب سے کہ تم دوسروں کو تعلیم دیتے ہو۔ اس میں یہ بات بھی آجاتی ہے کہ تم خود اہل علم ہو۔ تم اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت پڑھتے ہو۔ اس کے پڑھنے پڑھانے سے علم پختہ ہوتا ہے اور باقی رہتا ہے۔ ﴿ وَلَا يَاۡمُرَؔكُمۡ اَنۡ تَتَّؔخِذُوا الۡمَلٰٓىِٕكَةَ وَالنَّبِيّٖنَ اَرۡبَابًا ﴾ ’’اور یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ تمھیں فرشتوں اور نبیوں کو رب بنالینے کا حکم دے‘‘ یہ تخصیص کے بعد تعمیم ہے۔ یعنی وہ تمھیں نہ اپنی ذات کی عبادت کا حکم دے گا نہ کسی بھی دوسری مخلوق کی عبادت کا حکم دے گا خواہ وہ فرشتے ہوں یا انبیاء یا کوئی اور ﴿ اَيَاۡمُرُؔكُمۡ بِالۡكُفۡرِ بَعۡدَ اِذۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ﴾ ’’کیا وہ تمھارے مسلمان ہونے کے بعد پھر کفر کا حکم دے گا؟‘‘ یہ نہیں ہوسکتا۔ جس کو نبوت کا شرف حاصل ہو، اس سے کسی ایسی بات کا تصور بھی محال ہے۔ جو شخص کسی نبی کی طرف اس قسم کی کوئی بات منسوب کرتا ہے وہ بہت بڑے گناہ کا بلکہ کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔