An-Noor
Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.
Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21
وَٱللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّن مَّآءٍ ۖ فَمِنْهُم مَّن يَمْشِى عَلَىٰ بَطْنِهِۦ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِى عَلَىٰ رِجْلَيْنِ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِى عَلَىٰٓ أَرْبَعٍ ۚ يَخْلُقُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ 45
اور اللہ ہی نے پیدا کیا ہر زمین پر چلنے والے جان دار کو پانی سے، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جو چلتے ہیں اپنے پیٹ کے بل اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو چلتے ہیں دو پاؤں پر اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو چلتے ہیں چار پاؤں پر پیدا کرتا ہے اللہ جو چاہتا ہے بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے قادر ہے (45)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے روئے زمین کے تمام جانداروں کو… جیسا کہ وہ مشاہدہ کرتے ہیں ﴿ مِنۡ مَّآءٍ ﴾ ’’پانی سے‘‘ تخلیق فرمایا، یعنی تمام جان داروں کا مادۂ تخلیق پانی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَيۡءٍ حَيٍّ﴾(الانبیاء:21؍30) ’’اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی ہے۔‘‘ پس وہ حیوانات جن کا سلسلۂ تناسل جاری ہے، ان کا مادۂ تخلیق نطفہ کا پانی ہے جب نر مادہ کو حاملہ کرتا ہے تو اسی آب نطفہ سے تخلیق ہوتی ہے اور وہ حیوانات جو زمین سے پیدا ہوتے ہیں وہ صرف پانی کی رطوبتوں سے پیدا ہوتے ہیں ، مثلاً:حشرات الارض۔ ان میں نطفہ وغیرہ موجود نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ آب نطفہ کے بغیر پیدا ہوتے ہیں ۔ پس مادۂ تخلیق ایک ہے مگر اس سے پیدا ہونے والی مخلوق بہت سے پہلوؤں سے (ایک دوسرے سے) مختلف ہوتی ہے۔ ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّمۡشِيۡ عَلٰى بَطۡنِهٖ ﴾ ’’پس ان میں سے کوئی پیٹ کے بل چلتا ہے‘‘ جیسے سانپ وغیرہ﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّمۡشِيۡ عَلٰى رِجۡلَيۡنِ ﴾ ’’اور کوئی دو ٹانگوں پر چلتا ہے ‘‘ جیسے آدمی اور بہت سے پرندے﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّمۡشِيۡ عَلٰۤى اَرۡبَعٍ ﴾ ’’اور بعض ان میں سے چار ٹانگوں پر چلتے ہیں ۔‘‘ جیسے چوپائے اور مویشی وغیرہ۔ اصل ایک کے باوجود ان میں تنوع دلالت کرتا ہے کہ اس کی قدرت سب کو شامل اور اس کی مشیت سب میں نافذ ہے۔بنابریں فرمایا:﴿ يَخۡلُقُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُ﴾ ’’اللہ جو چاہتا ہے (اور جیسی چاہتا ہے اپنی مخلوق) پیدا کرتا ہے‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ مثلاً: اللہ تعالیٰ زمین پر پانی نازل کرتا ہے، یعنی پانی ایک ہی ہے۔ ماں ، یعنی زمین ایک ہے مگر اس زمین سے جنم لینے والی اولاد مختلف اوصاف کی حامل اور متنوع ہے۔ فرمایا:﴿ وَفِي الۡاَرۡضِ قِطَعٌ مُّتَجٰؔوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّزَرۡعٌ وَّنَخِيۡلٌ صِنۡوَانٌ وَّغَيۡرُ صِنۡوَانٍ يُّسۡقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَنُفَضِّلُ بَعۡضَهَا عَلٰى بَعۡضٍ فِي الۡاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ﴾(الرعد:13؍4) ’’اور زمین میں الگ الگ خطے ہیں جو ساتھ ساتھ پائے جاتے ہیں ، انگور کے باغات ہیں ، کھیتیاں ہیں ، نخلستان ہیں ان میں سے کچھ ایک ہی جڑ سے دو درخت نکلے ہوئے ہیں ، کچھ اکہرے ہیں ، جن کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے مگر مزے میں ہم ان کو ایک دوسرے پر فضیلت دے دیتے ہیں ۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں ۔‘‘