Langsung ke konten
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Baqara
Surah 2

Al-Baqara

Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.

Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21

Ayat 38–39

قُلْنَا ٱهْبِطُوا۟ مِنْهَا جَمِيعًا ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّى هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ 38 وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَآ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ 39

ہم نے کہا:اترو! (یہاں سے) تم سب، پھر اگر آئے تمھارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت، تو جس نے پیروی کی میری ہدایت کی، پس نہ کوئی خوف ہو گاان پر اور نہ وہ غمگین ہی ہوں گے(38) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہ لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(39)

[38]﴿قُلۡنَا اهۡبِطُوۡا مِنۡهَا جَمِيۡعًا﴾ ’’ہم نے کہا اترو اس سے اکٹھے۔‘‘ زمین پر اتارے جانے کا مکرر ذکر کیا تاکہ اس پر وہ حکم مرتب کیا جائے جس کا ذکر یہاں کیا جا رہا ہے۔ ﴿ فَاِمَّا يَاۡتِيَنَّـكُمۡ مِّؔنِّيۡ هُدًى ﴾ یعنی اے جن و انس! اگر تمھارے پاس میری طرف سے کسی وقت اور کسی بھی زمانے میں ہدایت پہنچے، یعنی کوئی رسول اور کوئی کتاب آئے جو اس راستے کی طرف تمھاری راہ نمائی کرے جوتمھیں میرا تقرب عطا کرے، میرے اور میری رضا کے قریب کرے۔ پس جو کوئی میری اس ہدایت کی پیروی کرتے ہوئے میرے رسولوں اور میری کتابوں پر ایمان لائے اور ان رسولوں کو راہنما بنائے۔۔۔ اور اس سے مراد ہے کہ وہ تمام انبیاء و مرسلین اور کتب وحی کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کرے۔ اللہ کے اوامر پر عمل کرے اور اس کی منہیات سے اجتناب کرے۔ تب اس صورت میں ﴿فَلَاخَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلاَ هُمۡ يَحۡزَنُوۡنُ﴾ ’’ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘ ایک دوسرے مقام پر آتا ہے۔ ﴿فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلاَ يَضِلُّ وَلَا يَشۡقٰي﴾(طہ : 20؍123) ’’جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ تو گمراہ ہو گا نہ بدبختی میں پڑے گا۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی پیروی پر چار چیزیں مرتب ہوتی ہیں۔ بندے سے حزن و خوف کی نفی ۔ حزن اور خوف میں فرق یہ ہے کہ اگر غیر پسندیدہ امر گزر چکا ہو تو وہ دل میں حزن کا باعث ہوتا ہے اور اگر وہ اس غیر پسندیدہ امر کا منتظر ہو تو یہ خوف پیدا کرتا ہے۔ پس جس کسی نے ہدایت الٰہی کی پیروی کی اس سے حزن و خوف دور ہوگئے اور جب اس سے حزن و خوف کی نفی ہو گئی تو ان کی ضد ثابت ہو گئی اور وہ ہے ہدایت اور سعادت۔

[39] لہٰذا جو کوئی بھی اس کی ہدایت کی پیروی کرتا ہے اسے امن، دنیاوی اور اخروی سعادت اور ہدایت حاصل ہوتی ہے اور ہر تکلیف دہ چیز یعنی حزن و خوف اور ضلالت و شقاوت اس سے دور کر دی جاتی ہے۔ ہر مرغوب چیز اسے عطا کر دی جاتی ہے اور خوف زدہ کرنے والی چیز اس سے دور ہٹا دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس اس شخص کا معاملہ ہو گا جس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی پیروی نہ کی، پس اس کا انکار کیا اور اس کی آیات کو جھٹلایا۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ﴾ یہی لوگ جہنمی ہیں یعنی جہنم ان کے لیے لازم ہے۔ جیسے ساتھی دوسرے ساتھی سے اور قرض خواہ مقروض سے چمٹا رہتا ہے۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اس جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ کبھی اس سے باہر نہیں نکلیں گے جہنم کا عذاب کبھی ان سے کم نہ ہو گا اور نہ ان کو کوئی مدد پہنچے گی۔ ان آیات کریمہ اور ان جیسی دیگر آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مخلوق میں سے تمام جن و انس اہل سعادت اور اہل شقاوت کی اقسام میں منقسم ہیں۔ ان آیات میں دونوں فریقوں کی صفات اور ان اعمال کا ذکر کیا گیا ہے جو سعادت یا شقاوت کے موجب ہیں۔ ان آیات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ’’جن‘‘ ثواب و عقاب کے معاملے میں انسانوں کی طرح ہیں جس طرح وہ ان کی مانند امر و نہی کے مکلف ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنی نعمتوں اور اپنے احسانات کا ذکر شروع کیا، فرمایا: