Langsung ke konten
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Kahf
Surah 18

Al-Kahf

Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.

Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21

Ayat 37–38

قَالَ لَهُۥ صَاحِبُهُۥ وَهُوَ يُحَاوِرُهُۥٓ أَكَفَرْتَ بِٱلَّذِى خَلَقَكَ مِن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوَّىٰكَ رَجُلًا 37 لَّـٰكِنَّا۠ هُوَ ٱللَّهُ رَبِّى وَلَآ أُشْرِكُ بِرَبِّىٓ أَحَدًا 38

کہا اس سے، اس کے (مومن) ساتھی نے، جبکہ وہ گفتگو کر رہا تھا اس سے، کیا کفر کیا ہے تو نے ساتھ اس ذات کے، جس نے پیدا کیا تجھے مٹی سے، پھر نطفے سے، پھر ٹھیک اور درست بنایا تجھے مرد؟ (37) لیکن (میں تو کہتا ہوں ) وہی اللہ میرا رب ہے اور نہیں شریک ٹھہراتا میں اپنے رب کے ساتھ، کسی کو بھی (38) اور کیوں نہیں ، جب داخل ہوا تو اپنے باغ میں ، کہا تو نے، جو چاہے اللہ (وہی ہو گا)؟ نہیں کوئی قوت مگر ساتھ اللہ ( کی توفیق) کے،

[37] یعنی اس کے صاحب ایمان ساتھی نے اس کو نصیحت کرتے ہوئے اور اس کو اس کی ابتدائی حالت یاد دلاتے ہوئے جس حالت میں اللہ تعالیٰ اسے وجود میں لایا تھا، کہا:﴿ اَكَفَرۡتَ بِالَّذِيۡ خَلَقَكَ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًا﴾ ’’کیا تو نے اس ذات کا انکار کیا جس نے تجھے پیدا کیا مٹی سے، پھر قطرے سے، پھر پورا کر دیا تجھ کو مرد۔‘‘ پس وہی ہے جس نے تجھے وجود بخشا اور تجھ تک اپنی نعمتیں پہنچائیں ، تجھے ایک ہیئت سے دوسری ہیئت میں منتقل کیا یہاں تک کہ تجھے کامل اعضائے محسوسہ و معقولہ کے ساتھ آدمی بنا کر پیدا کیا، تیرے لیے اسباب میں آسانی پیدا کی اور تجھے دنیا کی نعمتیں مہیا کیں ۔ تو اپنی قوت و اختیار سے کبھی یہ دنیا حاصل نہ کر سکتا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے تجھ پر فضل و کرم کیا ہے۔ تب تیرے لیے کیونکر یہ مناسب ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کا انکار کرے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے جنم دیا اور نک سک درست کر کے آدمی بنایا اور تو اس کی نعمت کو جھٹلاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ تیرے مرنے کے بعد وہ تجھ کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا اور اگر اس نے تجھے دوبارہ زندہ کیا تو تجھے تیرے اس باغ سے بہتر باغ عطا کرے گا اور یہ ایسی بات ہے جو تیرے لیے مناسب اور تیرے لائق نہیں ۔

[38] جب اس کے مومن ساتھی نے دیکھا کہ وہ اپنے کفر اور سرکشی پر جما ہوا ہے تو اس نے مجادلات و شبہات کے وارد ہونے کے وقت اپنے رب کی شکر گزاری اور اپنے دین کا اعلان کرتے ہوئے بتایا: ﴿ لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّيۡ وَلَاۤ اُشۡرِكُ بِرَبِّيۡۤ اَحَدًا ﴾ ’’میں تو یہی کہتا ہوں کہ وہ اللہ میرا رب ہے، میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔‘‘ پس اس نے اپنے رب کی ربوبیت اور اس ربوبیت میں اس کی یکتائی اور اس کی اطاعت وعبادت کے ضروری ہونے کا اقرار کیا اور یہ کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ٹھہرائے گا، پھر اس نے آگاہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان اور اسلام کی نعمت سے نوازا ہے اگرچہ اس کے پاس مال اور اولاد قلیل ہے لیکن حقیقی نعمت ایمان اور اسلام ہی ہے اور ان کے سوا ہر چیز زائل ہو جانے والی، سزا اورعقوبت کی باعث ہے، چنانچہ فرمایا: