Langsung ke konten
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Kahf
Surah 18

Al-Kahf

Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.

Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21

Ayat 32–33

وَٱضْرِبْ لَهُم مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَـٰبٍ وَحَفَفْنَـٰهُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا 32 كِلْتَا ٱلْجَنَّتَيْنِ ءَاتَتْ أُكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِم مِّنْهُ شَيْـًٔا ۚ وَفَجَّرْنَا خِلَـٰلَهُمَا نَهَرًا 33

اور بیان کیجیے ان کے لیے مثال دو آدمیوں کی، کہ بنائے (تھے) ہم نے ایک کے لیے ان میں سے دو باغ انگوروں کےاور باڑ لگا دی ہم نے دونوں کے گرد کھجوروں کے درختوں کی اور کی ہم نے درمیان ان کے کھیتی (32) دونوں باغوں نے دیا اپنا پھل اور نہ کم کیا اس میں سے کچھ بھی اور جاری کر دی ہم نے درمیان ان دونوں کے ایک نہر (33) اور تھے اس کے لیے پھل،

[32] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے کہ ان کے سامنے دو آدمیوں کی مثال بیان کر دیجیے، ایک وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے دوسرا وہ جو ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا ناشکر گزار ہے اور ان دونوں سے جس قسم کے اقوال وافعال صادر ہوتے ہیں اور ان کی بنا پر انھیں جو دنیاوی اور اخروی عذاب اور ثواب حاصل ہوگا تاکہ یہ لوگ ان دونوں کے احوال سے عبرت حاصل کریں اور انھیں جو عذاب یا ثواب حاصل ہوا اس سے نصیحت پکڑیں ۔ ان دونوں آدمیوں کی متعین طور پر معرفت حاصل کرنے اور یہ معلوم کرنے میں کہ وہ کس زمانے اور کون سی جگہ کے لوگ ہیں ؟ کوئی فائدہ نہیں ۔ فائدہ اور نتیجہ صرف ان کے واقعہ کو بیان کرنے میں ہے۔ ان کے قصہ کے علاوہ دیگر امور میں تعرض کرنا محض تکلف ہے۔ پس ان دونوں میں سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی کرنے والے شخص کو اللہ تعالیٰ نے دو باغ عطا كيے، یعنی انگوروں کے دو خوبصورت باغ ﴿ وَّحَفَفۡنٰهُمَا بِنَخۡلٍ﴾ ’’اور ان دونوں کے گرد کھجوروں کے درخت تھے‘‘ یعنی ان باغات میں ہر قسم کے پھل تھے خاص طور پر انگور اور کھجور کے درخت جو سب سے افضل درخت ہیں ۔ باغ کے وسط میں انگور کی بیلیں تھیں کھجور کے درختوں نے اس کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا۔ اس طرح وہ بہت خوبصورت نظر آتا تھا انگور کی بیلوں اور کھجور کے درختوں کو بکثرت ہوا اور سورج کی وافر روشنی حاصل ہوتی تھی، ہوا اور روشنی پھل کی تکمیل اور اس کے پکنے کے لیے بہت ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ درختوں کے درمیان کھیتی کاشت کی ہوئی تھی۔

[33] پس ان کے لیے اس کے سوا کچھ باقی نہ تھا کہ ان سے کہا جاتا کہ ان دونوں باغوں کے پھل کیسے ہیں ۔ کیا ان کو سیراب کرنے کے لیے کافی پانی موجود ہے؟اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ دونوں باغوں میں سے ہر باغ کا پھل اور اس کی فصل کئی گنا ہوتی تھی ﴿ وَلَمۡ تَظۡلِمۡ مِّؔنۡهُ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’اور وہ نہیں گھٹاتے تھے اس میں سے کچھ‘‘ یعنی پھل لانے میں تھوڑی سی بھی کسر نہ چھوڑی اور اس کے ساتھ ساتھ دریا پانی سے لبریز اس کے چاروں جانب بہہ رہے تھے۔