Hud
Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.
Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ ٱلنَّاسَ أُمَّةً وَٰحِدَةً ۖ وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ 118 إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ ۚ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ ۗ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجْمَعِينَ 119
اور اگر چاہتا آپ کا رب تو البتہ بنا دیتا تمام لوگوں کو امت ایک ہی ، جبکہ وہ ہمیشہ رہیں گے (باہم) اختلاف کرنے والے ہی (118) سوائے ان لوگوں کے جن پر رحم کیا آپ کے رب نےاور اسی لیے اس نے پیدا کیا انھیں اور پوری ہوئی بات آپ کے رب کی، کہ ضرور بھروں گا میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے، سب سے (119)
[118] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو تمام لوگوں کو دین اسلام پر مجتمع کر کے انھیں ایک امت بنا دیتا اس کی مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہ تھی اور کوئی چیز اس کی گرفت سے باہر نہیں ۔ مگر اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اختلاف کرتے رہیں ، صراط مستقیم کی مخالفت کریں اور جہنم کی طرف جانے والے راستوں پر رواں دواں رہیں اور ہر کوئی اپنی رائے کو حق اور دوسرے کے قول کو گمراہی سمجھے۔
[119]﴿ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ رَبُّكَ ﴾’’مگر جن پر رحم کیا آپ کے رب نے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی علم حق کی طرف رہنمائی کی، انھیں اس پر عمل اور اس پر اتفاق کی توفیق بخشی۔ پس یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے سعادت کو لکھ دیا گیا تھا اور عنایت ربانی اور توفیق الٰہی نے ان کو جا لیا تھا… رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کو ان کے نفسوں کے حوالے کر دیا گیا۔﴿ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمۡ﴾ ’’اور اسی لیے ان کو پیدا کیا‘‘ یعنی ان کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا تاکہ ان میں سے کچھ لوگ خوش بخت اور کچھ لوگ بدبخت ہوں ، ان میں کچھ لوگ اتفاق کرنے والے اور کچھ لوگ اختلاف کرنے والے ہوں ۔ ان میں سے ایک گروہ وہ ہو جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نواز دیا اور ایک گروہ وہ ہو جو گمراہی کا حق دار قرار پایا تاکہ بندوں پر اس کا عدل اور اس کی حکمت عیاں ہو جائے، نیز طبائع بشری میں جو کچھ بھی اچھائی اور برائی پنہاں ہے وہ ظاہر ہو جائے اور تاکہ جہاد اور ان عبادات کا بازار گرم ہو جو امتحان اور آزمائش کے بغیر درست اور مکمل نہیں ہوتیں اور اس لیے کہ ﴿ وَتَمَّتۡ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’آپ کے رب کی وہ بات پوری ہو جائے (جس میں اس نے کہا تھا) کہ میں جہنم کو جنوں ، انسانوں سب سے بھر دوں گا۔‘‘ پس لازم ٹھہرا کہ وہ جہنم کو اس میں رہنے والے مہیا کرے جو ایسے اعمال بجا لائیں جو جہنم میں پہنچاتے ہیں ۔