At-Tawba
Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.
Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21
لَـٰكِنِ ٱلرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ جَـٰهَدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلْخَيْرَٰتُ ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ 88 أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُمْ جَنَّـٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ 89
لیکن رسول(ﷺ) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے، انھوں نے جہاد کیا ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کےاور یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے بھلائیاں ہیں اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(88) تیار کیے ہیں اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی(89)
[88] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: جب یہ منافقین جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے بے نیاز ہے۔ اس کی مخلوق میں اس کے ایسے خاص بندے ہیں جن کو اس نے اپنے فضل سے خاص طور پر نوازا ہے وہ اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور وہ ہیں ﴿ الرَّسُوۡلُ ﴾ رسول مصطفیﷺ ﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ جٰهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اور وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جہاد کیا انھوں نے آپ کے ساتھ اپنے مالوں اور جانوں سے۔‘‘ وہ کاہل ہیں نہ سست بلکہ وہ فرحاں اور بشارت حاصل کرنے والے ہیں ۔ ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الۡخَيۡرٰتُ﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے (دنیا و آخرت) کی بے شمار بھلائیاں ہیں۔‘‘ ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی فلاح پانے والے ہیں ۔‘‘ جو بلند ترین مطالب اور کامل ترین مرغوبات کے حصول میں کامیاب ہیں ۔
[89]﴿اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’تیار کیے ہیں اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ کہ ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہی ہے بڑی کامیابی‘‘ ہلاکت ہے ایسے شخص کے لیے جو ان امور میں رغبت نہیں رکھتا جن میں اہل جنت رغبت رکھتے ہیں اور وہ اپنے دین اور دنیا و آخرت میں خسارے میں پڑنے والا شخص ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی نظیر ہے ﴿قُلۡ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهٖۤ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍107) ’’کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن لوگوں کو اس سے پہلے کتاب کا علم دیا گیا ہے جب ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں ۔‘‘اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کی نظیر ہے ﴿فَاِنۡ يَّكۡفُرۡ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدۡ وَؔكَّؔلۡنَا بِهَا قَوۡمًا لَّيۡسُوۡا بِهَا بِكٰفِرِيۡنَ﴾(الانعام: 6؍89) ’’اگر یہ کفار ان باتوں کا انکار کرتے ہیں تو ہم نے ان باتوں پر ایمان لانے کے لیے ایسے لوگوں کو مقرر کر دیا ہے جو اس کا انکار کرنے والے نہیں ۔‘‘