At-Tawba
Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.
Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21
وَأَذَٰنٌ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلنَّاسِ يَوْمَ ٱلْحَجِّ ٱلْأَكْبَرِ أَنَّ ٱللَّهَ بَرِىٓءٌ مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُۥ ۚ فَإِن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى ٱللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ 3
اور اعلان ہے اللہ اوراس کے رسول کی جانب سے لوگوں کی طرف، دن حج اکبر کے، کہ بے شک اللہ دست بردار ہے مشرکین سے اوراس کا رسول (بھی)، پس اگر تم توبہ کرلو تو یہ بہتر ہے تمھارے لیے اوراگر تم نے منہ پھیر ے رکھا تو جان لو کہ بے شک تم نہیں عاجز کرنے والے اللہ کواور خوشخبری دے دیجیے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، عذاب درد ناک کی(3)
[3] یہ اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ساتھ وعدہ ہے کہ وہ اپنے دین کو فتح مند اور اپنے کلمہ کو بلند کرے گا اور ان کے مشرک دشمنوں سے علیحدہ ہو جائے گا جنھوں نے رسول اللہﷺ اور آپ کے صحابہy کو مکہ مکرمہ اور اللہ تعالیٰ کے محترم گھر سے نکال کر حجاز کے اس خطہ ارضی سے جلا وطن کیا جس پر ان کا تسلط تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ اور مومنین کو فتح و نصرت سے نوازا حتیٰ کہ مکہ فتح ہوگیا۔ مشرکین مغلوب ہوئے اور ان علاقوں کا اقتدار اور غلبہ مسلمانوں کے ہاتھ آ گیا تو نبی اکرمﷺ نے اپنے اعلان کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ حج اکبر کے دن جو کہ قربانی اور جزیرۃ العرب کے مسلمانوں اور کفار کے اکٹھے ہونے کا دن ہے.... اعلان کر دے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بریء الذمہ ہے۔ رسول اللہﷺ کے ہاں اب ان کے لیے کوئی عہد اور میثاق نہیں ۔ وہ جہاں کہیں بھی ملیں گے ان کو قتل کیا جائے گا اور ان سے یہ بھی کہہ دیا گیا کہ وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں اور یہ سن ۹ ہجری تھا۔حضرت ابوبکرt نے لوگوں کے ساتھ حج کیا اور قربانی کے روز رسول اللہﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت علی بن ابی طالبt نے براء ت کا اعلان کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو توبہ کی ترغیب دی اور ان کو شرک پر جمے رہنے سے ڈرایا۔ ﴿فَاِنۡ تُبۡتُمۡ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ١ۚ وَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّـكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِي اللّٰهِ﴾ ’’پس اگر تم توبہ کر لو تو تمھارے لیے بہتر ہے اور اگر نہ مانو تو جان لو کہ تم اللہ کو ہرگز نہ تھکا سکو گے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے بھاگ نہیں سکتے بلکہ تم اس کے قبضۂ قدرت میں ہو اور وہ اس بات پر قادر ہے کہ تم پر اپنے مومن بندوں کو مسلط کر دے۔ ﴿وَبَشِّرِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خوش خبری سنادو۔‘‘ جو دنیا میں قتل، اسیری اور جلا وطنی کی صورت میں انھیں دیا جائے گا اور آخرت میں جہنم کی آگ کا۔ جو بہت برا ٹھکانا ہے۔