Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Anfaal
Sura ta 8

Al-Anfaal

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 67–69

مَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَكُونَ لَهُۥٓ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ ٱلدُّنْيَا وَٱللَّهُ يُرِيدُ ٱلْـَٔاخِرَةَ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ 67 لَّوْلَا كِتَـٰبٌ مِّنَ ٱللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَآ أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ 68 فَكُلُوا۟ مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَـٰلًا طَيِّبًا ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ 69

نہیں لائق کسی نبی کے کہ ہوں اس کے پاس قیدی(اور وہ انھیں قتل نہ کرے) یہاں تک کہ وہ خوب خوں ریزی کرلے زمین میں، ارادہ کرتے ہوتم سامان دنیا کااوراللہ ارادہ کرتا ہے آخرت کااوراللہ زبردست، حکمت والا ہے(67) اگر نہ ہوتی (ایک بات) لکھی ہوئی اللہ کی طرف سے پہلے ہی تو پہنچتا تم کو اس (کے بدلے) میں جو لیا تم نے، عذاب بڑا(68) پس کھاؤ تم اس سے جو لیا تم نے غنیمت کا مال، حلال پاکیزہ اور ڈرو اللہ سے، بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(69)

[67] یہ غزوہ بدر کے موقع پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺ اور اہل ایمان پر عتاب ہے جب انھوں نے مشرکین کو جنگی قیدی بنایا اور ان سے معاوضہ لینے کے لیے اپنے پاس رکھا۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطابt کی رائے یہ تھی کہ ان سے مالی معاوضہ لینے کی بجائے، ان کو قتل کر کے ان کی جڑ کاٹ دی جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهٗۤ اَسۡرٰى حَتّٰى يُثۡخِنَ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’نبی کے شایاں نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں یہاں تک کہ (کافروں کو قتل کرکے) زمین میں کثرت سے خون نہ بہادے۔‘‘ یعنی نبی کے لیے یہ بات ہرگز مناسب نہیں کہ جب وہ کفار کے ساتھ جنگ کرے جو اللہ تعالیٰ کی روشنی کو بجھانا اور اس کے دین کو مٹانا چاہتے ہیں اور وہ یہ بھی خواہش رکھتے ہیں کہ روئے زمین پر کوئی ایسا شخص باقی نہ رہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہو .... تو محض فدیہ کی خاطر (کفار کو قتل کرنے کی بجائے) قیدی بنانا شروع کر دے۔ یہ فدیہ اس مصلحت کی نسبت سے بہت حقیر ہے جو ان کے قلع قمع اور ان کے شر کے ابطال کا تقاضا کرتی ہے جب تک ان میں شر اور حملہ کرنے کی قوت موجود ہے اس وقت تک بہتر یہی ہے کہ ان کو (قتل کرنے کی بجائے) جنگی قیدی نہ بنایا جائے۔ جب خونریزی کے بعد کفار کا قلع قمع اور مشرکین کے شر کا سدباب ہو جائے اور ان کا معاملہ کمزور پڑ جائے تب ان کو (میدان جنگ میں ) قیدی بنانے اور ان کی جان بخشی کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ تُرِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’تم چاہتے ہو‘‘ یعنی تم ان کی جان بخشی کر کے اور اس کے عوض فدیہ لے کر ﴿ عَرَضَ الدُّنۡيَا ﴾ ’’دنیاوی مال و متاع لینا‘‘یعنی تم کسی ایسی مصلحت کی خاطر ان کی جان بخشی نہیں کر رہے جو دین کی طرف راجع ہو۔ ﴿ وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ الۡاٰخِرَةَ ﴾ ’’اور اللہ آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔‘‘ مگر اللہ تعالیٰ دین کو عزت سے نواز کر، اپنے اولیاء کی مدد کر کے اور دیگر قوموں پر انھیں غلبہ بخش کر تمھارے لیے آخرت کی بھلائی چاہتا ہے پس وہ تمھیں انھی امور کا حکم دیتا ہے جو اس منزل مراد پر پہنچاتے ہیں ۔ ﴿وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کامل غلبے کا مالک ہے اگر وہ کسی لڑائی کے بغیر کفار پر فتح دینا چاہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔ مگر وہ حکمت والا ہے وہ تمھیں ایک دوسرے کے ذریعے سے آزماتا ہے۔

[68]﴿ لَوۡلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ ﴾ ’’اگر اللہ کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر مقرر نہ ہو چکی ہوتی اور تمھارے لیے غنائم کو حلال نہ کر دیا گیا ہوتا اور اے امت مسلمہ ... تم سے عذاب کو نہ اٹھا لیا گیا ہوتا ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡمَاۤ اَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تو تم نے جو فدیہ حاصل کیا ہے اس کی پاداش میں تمھیں عذاب عظیم آلیتا‘‘ اور حدیث میں آتا ہے ’’اگر بدر کے روز (قیدیوں کے فدیہ کے معاملے میں ) عذاب نازل ہوتا تو عمر(t) کے سوا کوئی نہ بچتا۔ (تفسیر الدر المنثور: 3؍366)

[69]﴿ فَكُلُوۡا مِمَّا غَنِمۡتُمۡ حَلٰلًا طَيِّبًا﴾ ’’پس کھاؤ تم جو تم کو غنیمت میں ملا، حلال پاکیزہ‘‘ یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس کے لیے غنائم کو حلال کر دیا حالانکہ اس سے قبل کسی امت پر غنائم کو حلال نہیں کیا گیا تھا۔ ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہو۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بے شک اللہ بخشنے والا ہے۔‘‘ جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف لوٹتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دیتا ہے اور جس نے شرک نہیں کیا، اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دے گا۔ (اگر چاہے گا)﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے کہ اس نے تم پر مال غنیمت کو مباح کیا اور اس کو تمھارے لیے حلال اور پاک قرار دیا۔