Al-Ma'aarij
Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.
Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21
فَلَآ أُقْسِمُ بِرَبِّ ٱلْمَشَـٰرِقِ وَٱلْمَغَـٰرِبِ إِنَّا لَقَـٰدِرُونَ 40 عَلَىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ خَيْرًا مِّنْهُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ 41 فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا۟ وَيَلْعَبُوا۟ حَتَّىٰ يُلَـٰقُوا۟ يَوْمَهُمُ ٱلَّذِى يُوعَدُونَ 42 يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ ٱلْأَجْدَاثِ سِرَاعًا كَأَنَّهُمْ إِلَىٰ نُصُبٍ يُوفِضُونَ 43 خَـٰشِعَةً أَبْصَـٰرُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمُ ٱلَّذِى كَانُوا۟ يُوعَدُونَ 44
پس قسم کھاتا ہوں میں رب کی مشرقوں اور مغربوں کے یقیناً ہم البتہ قادر ہیں (40) اس بات پر کہ ہم بدلے میں لے آئیں بہتر ان سے اور نہیں ہیں ہم عاجز و مغلوب (41) پس آپ چھوڑ دیجیے انھیں کہ وہ مشغول رہیں (باطل میں) اور کھیلتے رہیں یہاں تک کہ ملاقات کریں وہ اپنے اس دن سے جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں وہ (42) جس دن وہ نکلیں گے قبروں سے دوڑتے ہوئے، گویا کہ وہ تھانوں (بتوں) کی طرف دوڑ رہے ہیں (43) جھکی ہوں گی ان کی نگاہیں ڈھانپتی ہو گی ان کو ذلت یہی ہے وہ دن جس کا تھے وہ وعدہ دیے جاتے (44)
[41,40] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشارق و مغارب، سورج، چاند اور ستاروں کی قسم ہے۔ کیونکہ ان میں قیامت پر اور ان کی مانند ایسے لوگ لے آنے میں اس کی قدرت پر بڑی بڑی نشانیاں ہیں جو عین انھی کی طرح ہوں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَنُنۡشِئَؔكُمۡ فِيۡ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾(الواقعہ:56؍61) ’’اور ہم تمھیں ایسے جہان میں پیدا کریں جس کو تم نہیں جانتے۔‘‘ ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِيۡنَ۠﴾ یعنی اگر ہم کسی کو دوبارہ زندہ کریں تو وہ ہم پر سبقت لے جا سکتا ہے اور نہ ہم سے آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ ہمیں عاجز کر سکتا ہے۔
[42] جب حیات بعدالممات اور جزا و سزا متحقق ہو گئی اور وہ اپنی تکذیب اور عدم اطاعت پر جم گئے ﴿ فَذَرۡهُمۡ يَخُوۡضُوۡا وَيَلۡعَبُوۡا﴾ ’’تو آپ ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیلنے میں چھوڑ دیں۔‘‘ یعنی باطل اقوال اور فاسد عقائد میں مشغول اپنے دین سے کھیلتے رہیں، کھاتے پیتے اور مزے اڑاتے رہیں ﴿ حَتّٰى يُلٰقُوۡا يَوۡمَهُمُ الَّذِيۡ يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’حتی کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ اس سے ملاقات کرلیں۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عبرت ناک سزا اور وبال تیار کر رکھا ہے جو ان کے باطل اقوال و عقائد میں مشغول رہنے کا انجام ہے۔
[44,43] پھر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے حال کا ذکر فرمایا جب وہ اس دن کا سامنا کریں گے جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، چنانچہ فرمایا:﴿ يَوۡمَ يَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ﴾ ’’اس دن یہ قبر وں سے نکلیں گے۔‘‘ ﴿ سِرَاعًا﴾ ’’دوڑتے ہوئے۔‘‘ پکارنے والے کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بڑی سرعت سے اس پکار کی طرف لپکیں گے ﴿ كَاَنَّهُمۡ اِلٰى نُصُبٍ يُّوۡفِضُوۡنَ﴾’’جیسے وہ معین نشان کی طرف دوڑ رہےہوں۔‘‘ یعنی گویا کہ وہ ایک نشان کا قصد رکھتے ہیں، وہ اس داعی کی آواز کی نافرمانی کر سکیں گے نہ پکارنے والے کی پکار سے ادھر ادھر التفات کریں گے بلکہ ذلیل و مقہور ہو کر رب کائنات کے سامنے پیش ہوں گے۔﴿ خَاشِعَةً اَبۡصَارُهُمۡ تَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٌ﴾ وہ اس طرح کہ ذلت اور اضطراب ان کے دلوں اور عقلوں پر غالب آ جائیں گے، ان کی نگاہیں جھک جائیں گی، تمام حرکات ساکن اور تمام آوازیں منقطع ہو جائیں گی ، پس یہ حال اور یہ انجام اس دن ہوگا ﴿ الۡيَوۡمُ الَّذِيۡ كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا ‘‘اور اللہ تعالیٰ کے وعدے کا پورا ہونا لا زمی امر ہے۔