Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-A'raaf
Sura ta 7

Al-A'raaf

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 16–17

قَالَ فَبِمَآ أَغْوَيْتَنِى لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَٰطَكَ ٱلْمُسْتَقِيمَ 16 ثُمَّ لَـَٔاتِيَنَّهُم مِّنۢ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَـٰنِهِمْ وَعَن شَمَآئِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَـٰكِرِينَ 17

اس نے کہا!پس بوجہ اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھے،ضرور بیٹھوں گا میں ان(کو گمراہ کرنے) کے لیے تیرے سیدھے راستے پر(16) پھر ضرورآؤں گامیں ان کے پاس ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے اور نہیں پائے گا تو ان کی اکثريت کو شکرگزار(17)

[16] جب ابلیس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوگیا تو کہنے لگا ﴿ فَبِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَهُمۡ ﴾ ’’جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ضرور بیٹھوں گا ان کے لیے‘‘ یعنی مخلوق کے لیے ﴿صِرَاطَكَ الۡمُسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’تیرے سیدھے راستے پر۔‘‘اور لوگوں کو اس راستے سے روکنے اور اس پر چلنے سے منع کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔

[17]﴿ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمۡ مِّنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ وَعَنۡ اَيۡمَانِهِمۡ وَعَنۡ شَمَآىِٕلِهِمۡ ﴾ ’’پھر میں ان پر آؤں گا ان کے آگے سے اور پیچھے سے اور دائیں سے اور بائیں سے‘‘ یعنی میں تمام جہات اور تمام اطراف سے ان پر حملہ آور ہوں گا اور ہر طریقے سے جہاں کہیں سے بھی مجھے ان سے اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوگی۔ جب شیطان خبیث کو معلوم ہوگیا کہ اولاد آدم بہت کمزور ہے، ان میں سے بہت سے لوگوں پر بسااوقات غفلت غالب آجاتی ہے تو اس نے ان کو گمراہ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا اور اس کا گمان سچ نکلا، اس لیے کہنے لگا ﴿وَلَا تَجِدُ اَكۡثَرَهُمۡ شٰكِرِيۡنَ﴾ ’’اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا‘‘ کیونکہ شکر گزاری بھی صراط مستقیم پر چلنے ہی کا حصہ ہے اور شیطان ان کو اس راستے پر گامزن ہونے سے روکتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر: 35؍6) ’’وہ تو اپنے گروہ کو اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں ۔‘‘شیطان نے جو کچھ کہا اور اپنے فعل کے عزم کا اظہار کیا، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر محض اس لیے متنبہ فرمایا ہے تاکہ ہم اپنے دشمن سے بچتے رہیں اور اس کے مقابلے کے لیے پوری طرح تیار رہیں اور ان راستوں اور داخل ہونے کے ان مقامات کی معرفت حاصل کر کے، جہاں سے وہ حملہ آور ہوتا ہے، اپنی حفاظت کر سکیں ۔ پس یہ خبر دے کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی نعمت کامل سے نوازا ہے۔