Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Qalam
Sura ta 68

Al-Qalam

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 34–41

إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ 34 أَفَنَجْعَلُ ٱلْمُسْلِمِينَ كَٱلْمُجْرِمِينَ 35 مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ 36 أَمْ لَكُمْ كِتَـٰبٌ فِيهِ تَدْرُسُونَ 37 إِنَّ لَكُمْ فِيهِ لَمَا تَخَيَّرُونَ 38 أَمْ لَكُمْ أَيْمَـٰنٌ عَلَيْنَا بَـٰلِغَةٌ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۙ إِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُونَ 39 سَلْهُمْ أَيُّهُم بِذَٰلِكَ زَعِيمٌ 40 أَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ فَلْيَأْتُوا۟ بِشُرَكَآئِهِمْ إِن كَانُوا۟ صَـٰدِقِينَ 41

بلاشبہ متقی لوگوں کے لیے ان کے رب کے ہاں باغات ہیں نعمت کے (34) کیا پس ہم کر دیں گے مسلمانوں کو مجرموں کی طرح؟ (35) کیا ہے تمھیں کیسے فیصلے کرتے ہو تم؟ (36) کیا تمھارے پاس کوئی کتاب ہے کہ اس میں تم پڑھتے ہو؟ (37) کہ بلاشبہ تمھارے لیے اس میں البتہ وہ چیز ہے جو تم پسند کرتے ہو (38) کیا تمھارے لیے قسمیں ہیں ہمارے ذمے انتہائی پختہ یوم قیامت تک، کہ یقیناً تمھارے لیے البتہ وہ ہو گا جو تم فیصلہ کرو گے؟(39) پوچھیے ان سے کون ان میں سے اس (بات) کا ضامن ہے؟ (40) کیا ان کے لیے (ہمارے) شریک ہیں؟ تو چاہیے کہ لے آئیں وہ اپنے شریکوں کو اگر ہیں وہ سچے (41)

[41-34] اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو اس نے کفر اور معاصی سے بچنے والوں کے لیے تیار کر رکھی ہیں، یعنی مختلف انواع کی نعمتیں اور اکرم الاکر مین کے جوار میں ہر قسم کے تکدر سے پاک زندگی ،نیز وہ آگاہ فرماتا ہے کہ اس کی حکمت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اہل تقویٰ، اپنے رب کے فرمان بردار بندوں، اس کے احکام کی تعمیل کرنے والوں اور اس کی مرضی کی اتباع کرنے والوں کو مجرموں کے برابر قرار دے جنھوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، اس کی آیات اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر اور اس کے اولیاء کے ساتھ محاربت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کو ثواب میں برابر قرار دے گا تو اس نے نہایت برا فیصلہ کیا ہے اس کا فیصلہ باطل اور اس کی رائے فاسد ہے۔اور مجرم جب یہ دعویٰ کرتے ہیں تو ان کے پاس کوئی سند ہے نہ کوئی ایسی کتاب ہے جسے یہ پڑھتے اور اس کی تلاوت کرتے ہوں کہ وہ جنتی ہیں اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گی جو وہ منتخب کریں گے اور طلب کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت تک ان کے لیے اس بات کا عہد ہے نہ حلف کہ ان کے لیے وہ سب کچھ ہو جس کا وہ فیصلہ کریں، جو کچھ وہ طلب کرتے ہیں، اس کے حصول میں ان کے کوئی شریک اور معاون بھی نہیں ہیں۔ اگر ان کے شرکاء اور معاون و مددگار ہیں تو ان کو لائیں اگر وہ سچے ہیں۔ یہ بات معلوم ہے کہ یہ سب کچھ بہت بعید ہے، ان کے پاس کوئی کتاب ہے نہ نجات کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے کوئی عہد ہے اور نہ ان کے شریک ہیں جو ان کی مدد کریں، پس معلوم ہوا کہ ان کا دعویٰ باطل اور فاسد ہے۔ ﴿ سَلۡهُمۡ اَيُّهُمۡ بِذٰلِكَ زَعِيۡمٌ ﴾ یعنی ان سے پوچھو کہ اس دعویٰ کی کون ذمہ داری اٹھاتا ہے جس کا بطلان واضح ہے۔ کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اسے لے کر آگے بڑھے اور نہ وہ اس میں ضامن ہی بن سکتا ہے۔