As-Saff
Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.
Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21
سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ 1 يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ 2 كَبُرَ مَقْتًا عِندَ ٱللَّهِ أَن تَقُولُوا۟ مَا لَا تَفْعَلُونَ 3
تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو چیز ہے زمین میں، اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے(1) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیوں کہتے ہو تم وہ جو نہیں کرتے تم؟(2) بڑی ہے باعتبار ناراضی کے نزدیک اللہ کے یہ (بات) کہ کہو تم وہ جو نہیں کرتے تم(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور غلبے کا بیان ہے، نیز اس حقیقت کا بیان ہے کہ تمام اشیاء اس کے سامنے سرافگندہ ہیں اور آسمانوں اور زمین کے تمام رہنے والے، اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں، اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس سے اپنی حوائج طلب کرتے ہیں۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور وہ غالب ہے۔‘‘ یعنی اپنے غلبہ اور تسلط کے ذریعے سے تمام اشیاء پر قاہر ہے۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ﴾ وہ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے۔
[2، 3]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ﴾ اے ایمان والو! تم نیکی کی باتیں کیوں کرتے ہو اور کیوں لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے ہو، بسا اوقات اس پر تمھاری تعریف بھی کی جاتی ہے اور حال تمھارا یہ ہے کہ تم خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ تم لوگوں کو بدی سے روکتے ہو اور بسا اوقات تم خود اپنے آپ کو اس سے پاک قرار دیتے ہو، حالانکہ تم اس بدی میں ملوث اور اس سے متصف ہو۔ کیا یہ مذموم حالت مومنوں کے لائق ہے یا یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی ناراضی کی بات ہے کہ بندہ ایسی بات کہے جس پر خود عمل نہ کرتا ہو؟ اس لیے نیکی کا حکم دینے والے کے لیے مناسب یہی ہے کہ لوگوں میں سب سے پہلے اس نیکی کی طرف سبقت کرنے والا ہو اور بدی سے روکنے والا، لوگوں میں سے سب سے زیادہ اس بدی سے دور ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَتَاۡمُرُوۡنَؔ النَّاسَ بِالۡـبِرِّ وَتَنۡسَوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ وَاَنۡتُمۡ تَتۡلُوۡنَؔ الۡكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَؔ﴾(البقرۃ:2؍44) ’’کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہوباوجود یکہ تم کتاب پڑھتے ہو، کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں؟‘‘ حضرت شعیب uنے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾(ھود:11؍88) ’’میں نہیں چاہتا کہ جس کام سے میں تمھیں منع کرتا ہوں، اسے خود کرنے لگوں۔‘‘