Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Waaqia
Sura ta 56

Al-Waaqia

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 41–48

وَأَصْحَـٰبُ ٱلشِّمَالِ مَآ أَصْحَـٰبُ ٱلشِّمَالِ 41 فِى سَمُومٍ وَحَمِيمٍ 42 وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ 43 لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ 44 إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَبْلَ ذَٰلِكَ مُتْرَفِينَ 45 وَكَانُوا۟ يُصِرُّونَ عَلَى ٱلْحِنثِ ٱلْعَظِيمِ 46 وَكَانُوا۟ يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَـٰمًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ 47 أَوَءَابَآؤُنَا ٱلْأَوَّلُونَ 48

اور بائیں (ہاتھ) والے، کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟ (41)(ہوں گے) سخت گرم ہوا اور گرم کھولتے پانی میں (42) اور سائے میں سیاہ ترین دھوئیں کے (43) نہ (وہ) ٹھنڈا ہو گا اور نہ فرحت بخش (44) بلاشبہ وہ تھے پہلے اس سے خوش حال (45) اور تھے وہ اصرار کرتے اوپر بڑے گناہ (شرک) کے (46) اور تھے وہ کہتے، کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں ہم مٹی اور ہڈیاں تو کیا بے شک ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ (47) کیا (ہم) اور ہمارے پہلے باپ دادا بھی؟ (48)

[44-41] اصحاب شمال سے مراد، اہل جہنم اور ان کے منحوس اعمال ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا ہے جس کے وہ مستحق ہوں گے، چنانچہ آگاہ فرمایا کہ وہ ﴿ فِيۡ سَمُوۡمٍ ﴾’’ باد سموم میں ہوں گے۔‘‘ یعنی جہنم کی آگ کی حرارت سے گرم کی ہوئی ہوا جو ان کی سانسوں کو پکڑ لے گی اور سخت اضطراب میں مبتلا کر دے گی ﴿ وَّحَمِيۡمٍ﴾ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ ﴿ وَّظِلٍّ مِّنۡ يَّحۡمُوۡمٍ﴾ ’’اور سیاہ ترین دھویں کے سارے میں ہوں گے۔‘‘ یعنی آگ کے شعلوں میں ہوں گے جن کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو گا۔ ﴿ لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيۡمٍ﴾ یعنی اس میں ٹھنڈک ہو گی نہ وہ خوشگوار ہو گا مقصد یہ ہے کہ وہاں ہم و غم اور حزن و شر ہو گا، جس میں کوئی بھلائی نہ ہو گی کیونکہ ضد کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے۔

[48-45] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کا ذکر فرمایا جنھوں نے ان کو اس انجام تک پہنچایا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ مُتۡرَفِيۡنَ﴾ یعنی وہ ایسے لوگ تھے کہ ان کی دنیا نے ان کو غافل کر دیا، انھوں نے دنیا کے لیے کام کیا، دنیا کی آسائشوں میں مگن رہے، دنیا سے فائدہ اٹھاتے رہے، دنیا کی مہلت نے ان کو اپنے عمل کو درست کرنے سے غافل رکھا۔ پس یہی وہ خوش حالی ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی ہے۔ ﴿وَكَانُوۡا يُصِرُّوۡنَ عَلَى الۡحِنۡثِ الۡعَظِيۡمِ﴾ یعنی وہ بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے تھے اور ان سے توبہ کرتے تھے نہ انھیں ان گناہوں پر ندامت ہی ہوتی تھی۔ بلکہ وہ ایسے کاموں پر مصر رہتے تھے جن سے ان کا آقا ناراض تھا۔ پس انھوں نے نے اپنے آقا کے سامنے بڑے بڑے گناہ پیش کیے جن کی بخشش نہ تھی۔وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے تھے اور اس کے وقوع کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے تھے ﴿ اَىِٕذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠۰۰ اَوَ اٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ﴾ ’’کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر دوبارہ کھڑے کیے جائیں گے؟ اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی؟‘‘

اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب اور ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: