Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Waaqia
Sura ta 56

Al-Waaqia

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 27–40

وَأَصْحَـٰبُ ٱلْيَمِينِ مَآ أَصْحَـٰبُ ٱلْيَمِينِ 27 فِى سِدْرٍ مَّخْضُودٍ 28 وَطَلْحٍ مَّنضُودٍ 29 وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ 30 وَمَآءٍ مَّسْكُوبٍ 31 وَفَـٰكِهَةٍ كَثِيرَةٍ 32 لَّا مَقْطُوعَةٍ وَلَا مَمْنُوعَةٍ 33 وَفُرُشٍ مَّرْفُوعَةٍ 34 إِنَّآ أَنشَأْنَـٰهُنَّ إِنشَآءً 35 فَجَعَلْنَـٰهُنَّ أَبْكَارًا 36 عُرُبًا أَتْرَابًا 37 لِّأَصْحَـٰبِ ٱلْيَمِينِ 38 ثُلَّةٌ مِّنَ ٱلْأَوَّلِينَ 39 وَثُلَّةٌ مِّنَ ٱلْـَٔاخِرِينَ 40

اور دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے؟ (27)(ہوں گے) بے خار بیریوں میں (28) اور تہ بہ تہ کیلوں میں(29) اور پھیلائی ہوئی چھاؤ ں میں (30) اور پانی بہتے ہوئے (آبشاروں) میں (31) اور ایسے بہ کثرت پھلوں میں (32) جو نہ مقطوع (ختم) ہوں گے اور نہ ممنوع (33) اور ایسے تختوں پر جو اونچے ہوں گے (34) بلاشبہ ہم پیدا کریں گے ان (بیویوں) کو نئے سرے سے (35) پس بنا دیں گے ہم انھیں کنواریاں (36) دلربا، ہم عمر (37) اصحاب یمین کے لیے (38) کثیر جماعت پہلوں میں سے(39) اور کثیر جماعت پچھلوں میں سے (40)

[27] پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے اصحاب یمین کے لیے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور داہنے (ہاتھ) والے کیا (ہی اچھے) ہیں داہنے (ہاتھ)والے۔‘‘ یعنی وہ عظیم الشان لوگ اور بڑے احوال کے مالک ہیں۔[28]یعنی بیری کے کانٹے اور ردی قسم کی ضرر رساں شاخیں تراش دی گئی ہوں گی اور ان کی جگہ نہایت لذیذ پھل لگا دیے جائیں گے۔ گہرا سایہ اور راحت جسم، بیری کے درخت کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔[29، 30]﴿ طَلۡحٍ ﴾معروف درخت ہے، یہ بہت بڑا درخت ہوتا ہے جو صحراؤ ں میں اگتا ہے، اس کی شاخیں لذیذ اور مزیدارپھل سے لدی ہوئی ہوتی ہیں۔[31]یعنی بہت سے چشموں اور بہتی ہوئی ندیوں کا بہتا ہوا اور اچھلتا ہوا پانی ہے۔[32، 33]یعنی یہ پھل دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہوں گے جو کسی وقت ختم ہو جاتے ہیں اور ان کو تلاش کرنے والوں کے لیے ان کا حصول مشکل ہو جاتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گے، ان کو بہت قریب سے چنا جا سکے گا، بندۂ مومن کسی بھی حال میں ان کو حاصل کر سکے گا۔[34] یعنی ان بچھونوں کو بہت بلند تختوں سے بھی بلند کیا گیا ہو گا۔ یہ بچھونے ریشم، سونے، موتیوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

[35]یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔[37,36] ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کو دو شیزائیں بنا دیں گے۔ اس کا عموم، خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف ، یعنی دو شیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا ﴿ عُرُبًا اَتۡرَابًا﴾’’محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔‘‘ ہر حال میں وصف لازم ہے۔ اَلْعُرُوباس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیئت، اپنی ناز و ادا، اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنا لیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہو، خاص طور پر جبکہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے ادب، اس کی ہیئت اور اس کے ناز و ادا کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل فرحت و سرور سے لبریز ہو جاتا ہے، جب وہ اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہو جاتی ہے تو وہ جگہ اس کی خوشبو اور نور سے لبریز ہو جاتی ہے، اس میں جماع کے وقت ناز و ادا بھی داخل ہے۔ اَلْاَتْرَاب ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی عمر میں ہوں، یعنی تینتیس سال کی عمر میں ہوں گی جس کے بارے میں تمنا کی جاتی ہے کہ یہ جوانی کی کامل ترین عمر کی انتہا ہے۔ پس ان کی بیویاں ان کو بہت محبوب، ہم عمر، اتفاق اور الفت کرنے والی، راضی رہنے والی ہوں گی اور ان کے شوہر ان پر راضی ہوں گے، بلکہ وہ دلوں کی فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نگاہوں کی روشنی ہوں گی۔[38] یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لیے تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی ۔

[39، 40] لوگوں کی یہ قسم، یعنی اصحاب یمین، اولین میں سے بہت سی تعداد اور آخرین میں سے بہت سی تعداد پر مشتمل ہوں گی۔