Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Adh-Dhaariyat
Sura ta 51

Adh-Dhaariyat

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 38–40

وَفِى مُوسَىٰٓ إِذْ أَرْسَلْنَـٰهُ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ بِسُلْطَـٰنٍ مُّبِينٍ 38 فَتَوَلَّىٰ بِرُكْنِهِۦ وَقَالَ سَـٰحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ 39 فَأَخَذْنَـٰهُ وَجُنُودَهُۥ فَنَبَذْنَـٰهُمْ فِى ٱلْيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٌ 40

اور موسیٰ (کے قصے) میں (نشانی ہے)، جب بھیجا ہم نے اس کو فرعون کی طرف ساتھ دلیل (معجزے) ظاہر کے (38) پس اس نے رو گردانی کی بہ سبب اپنی قوت کے اور کہا: (موسیٰ) ساحر یا مجنون ہے(39) پس گرفت کی ہم نے اس کی اور اس کےلشکروں کی اور پھینک دیا ہم نے ان کو سمندر میں اس حال میں کہ وہ قابل ملامت تھا (40)

[38]﴿ وَفِيۡ مُوۡسٰۤى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو جو واضح آیات اور ظاہری معجزات کے ساتھ مبعوث فرمایا، اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔

[39] چنانچہ جب حضرت موسیٰu واضح معجزہ لے کر آئے تو فرعون نے منہ موڑ لیا ﴿ بِرُؔكۡنِهٖ﴾ ’’اپنے لشکر کے ساتھ‘‘ یعنی اس نے حق سے روگردانی کی اور حضرت موسیٰu کی طرف التفات نہ کیا بلکہ انھوں نے حضرت موسیٰu میں جرح و قدح کی اور کہنے لگے: ﴿ سٰحِرٌ اَوۡ مَجۡنُوۡنٌ﴾ یعنی موسیٰ میں ان دو چیزوں میں سے ایک چیز ضرور ہے۔جو چیز موسیٰ پیش کر رہا ہے وہ جادو اور شعبدہ بازی ہے، یہ حق نہیں ہے یا موسیٰ مجنون ہے، اس سے جو کچھ صادر ہوتا ہے، اسے، اس کے فاتر العقل ہونے کی وجہ سے، اخذ نہ کیا جائے۔ حالانکہ انھیں پوری طرح علم تھا خاص طور پر فرعون جانتا تھا کہ حضرت موسیٰ u سچے ہیں ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا ﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے ظلم اور تکبر سے آیات الٰہی کا انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل تو ان کو تسلیم کر چکے تھے۔‘‘ اور حضرت موسیٰ uنے فرعون سے فرمایا :﴿ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ ﴾(بنی اسرائیل: 17؍102)’’تجھے علم ہو چکا ہے کہ ان بصیرت افروز نشانیوں کو آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کیا ۔‘‘

[40]﴿فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ وَهُوَ مُلِيۡمٌ﴾ ’’پس ہم نے اسے اور اس کے لاؤ شکر کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا۔‘‘ اور وہ قابل ملامت کام کرنے والا تھا۔‘‘ یعنی وہ گناہ گار، حد سے تجاوز کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی کرنے والا تھا پس غالب اور مقتدر ہستی نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔