Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Az-Zukhruf
Sura ta 43

Az-Zukhruf

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 74–78

إِنَّ ٱلْمُجْرِمِينَ فِى عَذَابِ جَهَنَّمَ خَـٰلِدُونَ 74 لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَهُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ 75 وَمَا ظَلَمْنَـٰهُمْ وَلَـٰكِن كَانُوا۟ هُمُ ٱلظَّـٰلِمِينَ 76 وَنَادَوْا۟ يَـٰمَـٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۖ قَالَ إِنَّكُم مَّـٰكِثُونَ 77 لَقَدْ جِئْنَـٰكُم بِٱلْحَقِّ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَـٰرِهُونَ 78

بلاشبہ مجرم لوگ عذاب جہنم ہی میں ہمیشہ رہیں گے (74) نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے وہ (عذاب) اور وہ اس میں مایوس ہوں گے (75) اور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر اور لیکن تھے وہ خود ہی ظلم کرنے والے (76) اور پکاریں گے وہ، اے مالک! چاہیے کہ فیصلہ ٔ (موت) صادر کر دے ہم پر تیرا رب، وہ کہے گا، بے شک تم (اسی میں) ٹھہرنے والے ہو (77) البتہ تحقیق لائے ہم تمھارے پاس حق، لیکن اکثر تمھارے حق کو ناپسند کرنے والے ہی تھے (78)

[74]﴿اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ جنھوں نے کفر اور تکذیب کے جرم کا ارتکاب کیا ﴿فِيۡ عَذَابِ جَهَنَّمَ ﴾ وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوں گے عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا۔ ﴿خٰؔلِدُوۡنَ﴾ وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس عذاب سے باہر نہیں نکلیں گے۔

[75]﴿لَا يُفَتَّرُ عَنۡهُمۡ ﴾ ایک گھڑی کے لیے بھی انھیں عذاب سے چھٹکارا نہیں ملے گا، نہ تو عذاب ختم ہو گا اور نہ اس میں نرمی ہی ہوگی۔ ﴿وَهُمۡ فِيۡهِ مُبۡلِسُوۡنَ﴾ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس اور ہر خوشی سے ناامید ہوں گے۔ وہ اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ۰۰ قَالَ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنون: 23؍107، 108) ’’اے ہمارے رب! ہمیں جہنم سے نکال لے، اگر ہم نے دوبارہ گناہ کیے تو ہم ظالم ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’اسی میں ذلیل و خوار ہو کر پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘

[76] یہ عذاب عظیم ان کی بداعمالیوں کا نتیجہ اور اس ظلم کی پاداش ہے جو انھوں نے اپنے آپ پر کیا۔اللہ تعالیٰ ان پر ظلم نہیں کرتا اور نہ وہ کسی کو گناہ اور جرم کے بغیر ہی سزا دیتا ہے۔

[77]﴿وَنَادَوۡا ﴾ ’’اور وہ پکاریں گے۔‘‘ درآں حالیکہ وہ آگ میں ہوں گے، شاید کہ انھیں کوئی آرام ملے۔ ﴿يٰمٰلِكُ لِيَقۡضِ عَلَيۡنَا رَبُّكَ ﴾ ’’اے مالك! تمھارا رب ہمارا کام تمام کردے۔‘‘ یعنی تیرا رب ہمیں موت دے دے تاکہ ہم عذاب سے آرام پائیں کیونکہ ہم شدید غم اور سخت عذاب میں مبتلا ہیں، ہم اس عذاب پر صبر کر سکتے ہیں نہ ہم میں اسے برداشت کرنے کی قوت ہے۔ ﴿قَالَ ﴾ جب وہ جہنم کے داروغہ ’’ مالک‘‘ سے التماس کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ وہ انھیں موت عطا کر دے تو مالک جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ ﴾ تم جہنم ہی میں رہو گے اور اس میں سے کبھی نہیں نکلو گے۔ انھیں ان کا مقصد حاصل نہیں ہو گا بلکہ انھیں ان کے مقصد کے بالکل الٹ جواب دیا جائے گا اور ان کے غم میں اور اضافہ ہو جائے گا۔

[78] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے افعال بد پر زجروتوبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا: ﴿لَقَدۡ جِئۡنٰكُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھارے پاس حق لے کر آئے۔‘‘ جو اس بات کا موجب ہے کہ تم اس کی اتباع کرو اور اگر تم نے حق کی اتباع کی ہوتی تو تم فوزوسعادت سے بہرہ مند ہو تے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَكُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’لیکن تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے رہے۔‘‘ بنابریں تم ایسی بدبختی کا شکار ہو گئے کہ اس کے بعد کوئی سعادت نہیں۔