Fussilat
Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.
Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَـٰبَ فَٱخْتُلِفَ فِيهِ ۗ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَفِى شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيبٍ 45 مَّنْ عَمِلَ صَـٰلِحًا فَلِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَنْ أَسَآءَ فَعَلَيْهَا ۗ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّـٰمٍ لِّلْعَبِيدِ 46
اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کوکتاب، پس اختلاف کیا گیا اس میں، اور اگر نہ ہوتی ایک بات، جو پہلے سے (طے) ہو چکی تھی آپ کے رب کی طرف سے، تو البتہ فیصلہ کر دیا جاتا درمیان ان کے، اور بے شک وہ البتہ شک میں ہیں اس کی طرف سے، جو اضطراب میں ڈالنے والا ہے (45) جس نے عمل کیا نیک، تو اس کےاپنے ہی لیے ہے اور جس نے برا کیا تو اسی پر ہے وبال(اس کا) اور نہیں ہے آپ کا رب ظلم کرنے والا بندوں پر (46)
[45] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو بھی کتاب عطا کی تھی‘‘ جس طرح آپ(ﷺ) کو کتاب عطا کی ہے۔ لوگوں نے حضرت موسیٰu کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو آپ کے ساتھ کر رہے ہیں۔ پس لوگوں نے اس کتاب کے بارے میں اختلاف کیا۔ ان میں سے کچھ لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئے، انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل کی اور اس سے مستفید ہوئے اور کچھ لوگوں نے اس کتاب کی تکذیب کی اور اس سے مستفید نہ ہو سکے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے حلم اور سابقہ فیصلے کی بنا پر ان پر عذاب کو ایک مدت مقررہ تک مؤخر نہ کرتا، جس سے یہ عذاب آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔ ﴿لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تو ان کے درمیان فیصلہ ہو چکا ہوتا‘‘ جس سے اہل ایمان اور کفار کے درمیان فرق واضح ہو جاتا اور کافروں کو اسی حال میں ہلاک کر دیا جاتا کیونکہ ان کی ہلاکت کا سبب پورا ہو چکا تھا۔ ﴿وَاِنَّهُمۡ لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهُ مُرِيۡبٍ ﴾ ’’اور یہ اس (قرآن) کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔‘‘ شک نے ان کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے، جہاں وہ متزلزل ہو گئے ہیں۔ اس لیے انھوں نے اس کی تکذیب کی۔
[46]﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا ﴾ ’’جس نے نیک کام کیے۔‘‘ عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہو۔ ﴿فَلِنَفۡسِهٖ﴾ دنیا و آخرت میں اس کا ثواب اور فائدہ اسی کے لیے ہے ﴿وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا ﴾ ’’جس نے برے کام کیے ان کا ضرر اسی کو ہوگا۔‘‘ دنیا و آخرت میں اس کا نقصان اور عذاب بھی وہی بھگتے گا۔ اس آیت کریمہ میں فعل خیر اور ترک شر کی ترغیب دی گئی ہے نیز اس میں ذکر کیا گیا ہے کہ اصحاب اعمال اپنے نیک اعمال سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور برے اعمال سے ان کو ضرر پہنچتا ہے۔ نیز یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾ ’’اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا کہ ان پر ان کی برائیوں سے بڑھ کر عذاب مسلط کر دے۔