Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Faatir
Sura ta 35

Faatir

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Aya ta 39

هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَكُمْ خَلَـٰٓئِفَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ فَمَن كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُۥ ۖ وَلَا يَزِيدُ ٱلْكَـٰفِرِينَ كُفْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ إِلَّا مَقْتًا ۖ وَلَا يَزِيدُ ٱلْكَـٰفِرِينَ كُفْرُهُمْ إِلَّا خَسَارًا 39

وہی ہے جس نے بنایا تمھیں جانشین زمین میں، پس جس نے کفر کیا تو اسی پر (وبال) ہو گا اس کےکفر کا، اور نہیں زیادہ کرتا کافروں کو ان کا کفر نزدیک ان کے رب کے مگر ناراضی ہی میں اور نہیں زیادہ کرتا کافروں کو ان کا کفر مگر نقصان ہی میں(39)

[39] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی حکمت کاملہ اور بندوں پر اپنی رحمت سے آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنی قضا و قدر سے ان کو زمین کے اندر ایک دوسرے کا جانشین بنایا اور ہر قوم میں ڈرانے والے مبعوث کیے تاکہ وہ دیکھے کہ ان کے اعمال کیسے ہیں۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی دعوت کا انکار کیا تو اس کے کفر اور گناہ کی سزا اسی کو ملے گی کوئی دوسرا اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ کافر اپنے کفر سے اپنے رب کی ناراضی اور غضب میں اضافہ کرتا ہے۔ رب کریم کی ناراضی سے بڑھ کر اور کون سی سزا ہو سکتی ہے؟ ﴿وَلَا يَزِيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ كُفۡرُهُمۡ اِلَّا خَسَارًا ﴾ ’’اور کافروں کو ان کا کفر نقصان ہی میں زیادہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی ذات، اپنے گھر والوں، اپنے اعمال اور جنت میں اپنی منازل کے بارے میں گھاٹے میں رہیں گے۔ کفار ہمیشہ بدترین بدبختی، گھاٹے، اللہ تعالیٰ کے ہاں رسوائی اور اس کی مخلوق کے ہاں محرومیوں میں مبتلا رہیں گے۔