Al-Ahzaab
Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.
Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21
تُرْجِى مَن تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَتُـْٔوِىٓ إِلَيْكَ مَن تَشَآءُ ۖ وَمَنِ ٱبْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ ءَاتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِى قُلُوبِكُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَلِيمًا 51
موقوف کر دیں آپ (باری) جس کی چاہیں، ان میں سے اور جگہ دیں اپنے پاس جس کو چاہیں، اور جسے آپ چاہیں ان میں سے جنھیں آپ نے علیحدہ کر دیا تھا تو کوئی گناہ نہیں آپ پر، یہ (حکمِ تخییر) زیادہ قریب ہے اس بات کے کہ ٹھنڈی ہوں آنکھیں ان کی اور نہ وہ غمگین ہوں اورراضی ہوں وہ اس پر جودیں ان کوآپ سب کی سب، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے اور ہے اللہ خوب جاننے والا، نہایت بردبار(51)
[51] نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ پر رحمت اور آپ کے لیے وسعت ہے کہ آپ کو اپنی ازواج مطہرات کی باریوں کی تقسیم کے ترک کرنے کو مباح فرمایا۔ اگر آپ ان کی باریاں مقرر کرتے ہیں تو یہ آپ کی نوازش ہے۔ اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کے درمیان ہر چیز تقسیم کر رکھی تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے: ’’اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے جو میرے بس میں ہے اور جو میرے بس میں نہیں (اے اللہ!) اس پر مجھے ملامت نہ کرنا۔‘‘ (سنن أبي داود، النکاح، باب في القسم بین النساء، ح: 2134 امام البانیa نے اس حدیث کے مرسل ہونے کو راحج قرار دیتےہوئے اسے ضعیف کہا ہے لیکن اس کا پہلا جملہ (یقسم بیننا فیعدل) دوسری حسن حدیث سے ثابت ہے۔ اور دوسرا اپنی معنی و مفہوم کے لحاظ سے درست ہے۔ جبکہ حماد بن سمہ نے اس حدیث کو موصولا بیان کیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: الإرواء، 7؍81 حدیث نمبر 2018) یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿تُرۡجِيۡ مَنۡ تَشَآءُ مِنۡهُنَّ ﴾ اپنی ازواج مطہرات میں سے جس کو چاہیں الگ رکھیں، اس کو اپنے پاس بلائیں نہ اس کے پاس رات بسر کریں۔ ﴿وَتُــــٔۡوِيۡۤ اِلَيۡكَ مَنۡ تَشَآءُ ﴾اور جس کو چاہیں اپنے پاس بلا ئیں اور اس کے ہاں رات بسر کریں۔﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ اس کے باوجود یہ امر متعین نہیں ﴿مَنِ ابۡتَغَيۡتَ ﴾ جس کو چاہو اپنے پاس بلا لو۔ ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكَ ﴾ ’’تو آپ پر کوئی مضائقہ نہیں۔‘‘ معنی یہ ہے کہ آپ کو مکمل اختیار ہے۔بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ یہ حکم ان عورتوں کے بارے میں خاص ہے جو اپنے آپ کو ہبہ کریں کہ آپ کو اختیار ہے جسے چاہیں الگ رکھیں اور جسے چاہیں بلا کر اپنے پاس رکھیں، یعنی اگر آپ چاہیں تو اس عورت کو قبول کر لیں جس نے خود کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا اور اگر آپ چاہیں تو قبول نہ کریں۔ واللّٰہ أعلم۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی حکمت واضح کرتے ہوئے فرمایا:﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی یہ وسعت، تمام معاملے کا آپ کے اختیار میں ہونا اور اس معاملے میں آپ کا ان عورتوں پر کوئی عنایت اور نوازش کرنا ﴿اَدۡنٰۤى اَنۡ تَقَرَّ اَعۡيُنُهُنَّ وَلَا يَحۡزَنَّ وَيَرۡضَيۡنَ بِمَاۤ اٰتَيۡتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ﴾ ’’اس میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غم ناک نہ ہوں اور آپ جو کچھ ان کو دیں اسے لے کر وہ سب خوش رہیں۔‘‘ کیونکہ انھیں علم ہو گا کہ آپ نے کسی واجب کو ترک کیا ہے نہ کسی واجب حق کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہے ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے اسے اللہ جانتا ہے۔‘‘ حقوق واجبہ و مستحبہ کی ادائیگی اور حقوق میں مزاحمت کے وقت دلوں میں جو خیال گزرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔ اس لیے اے اللہ کے رسول! آپ کے لیے یہ وسعت مشروع کی گئی ہے تاکہ آپ کی ازواج کا دل مطمئن رہے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَلِيۡمًا ﴾ اوراللہ تعالیٰ وسیع علم اور کثیر حلم والا ہے۔ یہ اس کا علم ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے وہ چیز مشروع کی ہے جو تمھارے معاملات کے لیے درست اور تمھارے اجر میں اضافہ کرنے کی باعث ہے اور یہ اس کا حلم ہے کہ تم سے جو کوتاہیاں صادر ہوئیں اور تمھارے دلوں نے جس برائی پر اصرار کیا، اس نے اس پر تمھاری گرفت نہیں فرمائی۔