Ash-Shu'araa
Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.
Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21
كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ ٱلْمُرْسَلِينَ 160 إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ لُوطٌ أَلَا تَتَّقُونَ 161 إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ 162 فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ 163 وَمَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ 164 أَتَأْتُونَ ٱلذُّكْرَانَ مِنَ ٱلْعَـٰلَمِينَ 165 وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُم مِّنْ أَزْوَٰجِكُم ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ 166 قَالُوا۟ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَـٰلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُخْرَجِينَ 167 قَالَ إِنِّى لِعَمَلِكُم مِّنَ ٱلْقَالِينَ 168 رَبِّ نَجِّنِى وَأَهْلِى مِمَّا يَعْمَلُونَ 169 فَنَجَّيْنَـٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ أَجْمَعِينَ 170 إِلَّا عَجُوزًا فِى ٱلْغَـٰبِرِينَ 171 ثُمَّ دَمَّرْنَا ٱلْـَٔاخَرِينَ 172 وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا ۖ فَسَآءَ مَطَرُ ٱلْمُنذَرِينَ 173 إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ 174 وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ 175
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘