Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Hajj
Sura ta 22

Al-Hajj

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 75–76

ٱللَّهُ يَصْطَفِى مِنَ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ ٱلنَّاسِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌۢ بَصِيرٌ 75 يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۗ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ 76

اللہ چن لیتا ہے فرشتوں میں سے کچھ قاصد اور لوگوں میں سے(بھی) یقینا اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے (75) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام امور (76)

[76,75] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا کمال اور بتوں کی کمزوری اور عجز بیان کرنے کے بعد، نیز یہ کہ وہی معبودِ برحق ہے… انبیاء و رسل کا حال بیان کیا ہے اور ان کے وہ امتیازی فضائل بیان كيے جن کے ذریعے سے وہ دیگر مخلوق سے ممتاز ہیں ۔ فرمایا:﴿ اَللّٰهُ يَصۡطَفِيۡ مِنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ﴾ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں میں سے رسول منتخب کرتا ہے جو اپنی نوع میں بہترین فرد اور صفات مجد کے سب سے زیادہ جامع اور منتخب كيے جانے کے سب سے زیادہ اہل اورمستحق ہوتے ہیں ۔پس رسول علی الاطلاق مخلوق میں سے چنے ہوئے لوگ ہوتے ہیں اور جس ہستی نے ان کو رسالت کے منصب کے لیے منتخب کیا ہے وہ اشیاء کے حقائق سے لاعلم نہیں یا وہ ایسی ہستی نہیں کہ وہ کچھ چیزوں کا علم رکھتی ہو اور کچھ چیزوں سے لاعلم ہو بلکہ ان کو منتخب کرنے والی ہستی، سمیع و بصیر ہے جس کے علم اور سمع و بصر نے تمام اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے، اس لیے اس نے اپنے علم ہی کی بنیاد پر ان لوگوں کو اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا ہے۔ وہ اس منصب کے اہل ہیں اور وحی کی ذمہ داری سونپے جانے کے لیے یہ صحیح لوگ ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ حَيۡثُ يَجۡعَلُ رِسَالَتَهٗ﴾(الانعام:6؍124) ’’اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ رسالت کسے عنایت فرمائے۔‘‘ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴾ ’’اور اللہ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ رسولوں کو بھیجتا ہے وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں ، کچھ لوگ ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور کچھ لوگ ان کی دعوت کو رد کر دیتے ہیں ، کچھ لوگ ان کی لائی ہوئی وحی پر عمل کرتے ہیں اور کچھ لوگ اس پر عمل نہیں کرتے۔ پس یہ تو ہے رسولوں کی ذمہ داری اور ان کا وظیفہ۔ اور رہی ان اعمال کی جزا و سزا تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ پس وہ اس جزاء و سزا میں فضل و کرم کا اہتمام بھی کرے گا اور عدل و انصاف کا بھی۔