Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Hajj
Sura ta 22

Al-Hajj

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 71–72

وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ سُلْطَـٰنًا وَمَا لَيْسَ لَهُم بِهِۦ عِلْمٌ ۗ وَمَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِن نَّصِيرٍ 71 وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتُنَا بَيِّنَـٰتٍ تَعْرِفُ فِى وُجُوهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلْمُنكَرَ ۖ يَكَادُونَ يَسْطُونَ بِٱلَّذِينَ يَتْلُونَ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِنَا ۗ قُلْ أَفَأُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِّن ذَٰلِكُمُ ۗ ٱلنَّارُ وَعَدَهَا ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ 72

اور وہ (مشرک) عبادت کرتے ہیں سوائے اللہ کے اس چیز (بتوں ) کی کہ نہیں نازل کی اللہ نے اس کی کوئی دلیل اور اس چیز کی کہ نہیں ہے ان کو اس کاکوئی علم اور نہیں ہے واسطے ظالموں کے کوئی مدد گار (71) جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں واضح تو پہچانتے ہیں آپ چہروں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا ناگواری، قریب ہوتے ہیں وہ کہ حملہ کر دیں ان لوگوں پر جو پڑھتے ہیں ان پر ہماری آیتیں ، آپ کہہ دیجیے! کیاپس خبر دوں میں تمھیں ساتھ بدتر کے اس سے بھی؟ (وہ) آگ ہے، وعدہ کیا اس کا اللہ نے ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیااوربری ہے و ہ ، پھرنے کی جگہ (72)

[71] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی حالت کا ذکر کرتا ہے جنھوں نے خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرا رکھا ہے کہ ان کی حالت بدترین حالت ہے۔ ان افعال پر ان کے پاس کوئی سند ہے نہ ان کے پاس کوئی علم ہی ہے۔ یہ تو محض مقلد ہیں یہ سب کچھ انھوں نے اپنے گمراہ آباؤ واجداد سے حاصل کیا ہے… اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان جو کوئی کام کرتا ہے اس کے پاس… فی نفس الامر… کوئی علمی دلیل نہیں ہوتی چنانچہ یہاں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شرک پر کوئی دلیل نازل نہیں کی جو اس کے جواز پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ایسی براہین قاطعہ نازل فرمائی ہیں جو اس کے فساد و بطلان پر دلالت کرتی ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان ظالموں کو، جو حق کے ساتھ عناد رکھتے ہیں ، وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ نَّصِيۡرٍ ﴾ ’’ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا‘‘ جو ان کو اللہ تعالیٰ کے نازل ہونے والے عذاب سے بچا سکے۔

[72] کیا یہ لوگ جن کو اپنے موقف کے بطلان کا علم نہیں ، یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات اور ہدایت آ جائے گی وہ اس کی اتباع کریں گے یا وہ اپنے باطل ہی پر راضی ہیں ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ ﴾ ’’جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری واضح آیات۔‘‘ وہ جو اللہ تعالیٰ کی جلیل القدر آیات ہیں اور باطل میں سے حق کو واضح کرنے کو مستلزم ہیں … تو یہ ان آیات کی طرف التفات کرتے ہیں نہ ان کو درخور اعتناء سمجھتے ہیں بلکہ اس کے برعکس ﴿ تَعۡرِفُ فِيۡ وُجُوۡهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الۡمُنۡؔكَرَ﴾ آپﷺ ان کے چہروں کو، ان آیات الٰہی کے ساتھ ان کے بغض و کراہت کی بنا پر، بگڑا ہوا اور ان کو منقبض اور ترش رو دیکھتے ہیں ۔ ﴿ يَكَادُوۡنَ يَسۡطُوۡنَ بِالَّذِيۡنَ يَتۡلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ یعنی ان کے شدت بغض اور حق کے ساتھ عناد اور عداوت کی وجہ سے قریب ہے کہ وہ ان آیات کی تلاوت کرنے والے کو قتل کرنے یا مارنے کے لیے اس پر چڑھ دوڑیں ۔ پس کفار کی یہ حالت بہت ہی بری حالت اور ان کا شر بہت ہی برا شر ہے مگر ان کی ایک حالت اس سے بھی بدتر ہے جس کی طرف یہ لوٹیں گے، اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اَفَاُنَبِّئُكُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِكُمۡ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’کہہ دیجیے! کیا میں تمھیں خبر دوں اس سے بھی بدتر چیز کی، وہ آگ ہے جس کا وعدہ اللہ نے کافروں سے کیا ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔‘‘ پس اس کا شر بہت طویل اور عریض ہے، اس کے آلام بہت شدید ہیں جو ہمیشہ بڑھتے ہی رہیں گے۔