Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · An-Naas
Sura ta 114

An-Naas

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 1–6

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ 1 مَلِكِ ٱلنَّاسِ 2 إِلَـٰهِ ٱلنَّاسِ 3 مِن شَرِّ ٱلْوَسْوَاسِ ٱلْخَنَّاسِ 4 ٱلَّذِى يُوَسْوِسُ فِى صُدُورِ ٱلنَّاسِ 5 مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ 6

کہہ دیجیے: میں پناہ میں آتا ہوں انسانوں کے رب کی(1) انسانوں کے بادشاہ کی(2) انسانوں کے معبود کی(3) شر سے و سوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے(4) وہ جو وسوسہ ڈالتا ہے لوگوں کے سینوں میں(5) جنوں میں سے اور انسانوں میں سے(6)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[6-1] یہ سورۂ مبارکہ لوگوں کے رب، ان کے مالک اور ان کے معبود کے پاس شیطان سے پناہ ہے جو تمام برائیوں کی جڑ اور ان کا مادہ ہے جس کا فتنہ اور شر یہ ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، ان کے سامنے شر کی تحسین کرتا ہے، برائی کو انتہائی خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور برائی کے فعل کے لیے ان کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے۔ وہ انھیں بھلائی سے باز رکھتا ہے اور اس کو کسی اور ہی صورت میں ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔وہ ہمیشہ اسی حال میں رہتا ہے کہ وہ وسوسہ ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے ، یعنی جب بندہ مومن اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کو دفع کرنے کے لیے اپنے رب کی مدد چاہتا ہے تو یہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔بندے کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے ذریعے سے جو تمام لوگوں کے لیے عام ہے، مدد طلب کرے، اس کی پناہ مانگے اور اسی کی پناہ میں آ کر اپنا بچاؤ کرے۔ تمام مخلوق اس کی ربوبیت اور بادشاہی کے تحت ہے، وہ ہر جان دار کی پیشانی کو پکڑے ہوئے ہے۔نیز وہ اس کی الوہیت کی پناہ حاصل کرے جس کی بنا پر اس نے ان سب کو تخلیق کیا اور ان کے لیے یہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ ان کے دشمن کا شر دفع نہ کیا جائے جو انھیں اس کے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے، وہ اس کے اور ان کے درمیان حائل ہونا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ ان کو اپنے گروہ میں شامل کر لے تاکہ وہ بھی جہنمی بن جائیں۔وسوسہ جس طرح جنات کی طرف سے ہوتا ہے، اسی طرح انسانوں کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿مِنَ الۡؔجِنَّةِ وَالنَّاسِ﴾ وسوسہ ڈالنے والا خواہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔

وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ أَوَّلًا وَّآخِرًا ظَاھِرًا وَّبَاطِنًا۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنی نعمتوں کا اتمام کرے، ہمارے گناہوں کو بخش دے جو ہمارے اور اس کی بہت سے برکات کے درمیان حائل ہیں۔ وہ ہماری خطاؤ ں اور شہوات کو معاف کر دے جنھوں نے ہماری عقلوں کو اس کی آیات میں تدبر و تفکر سے عاری کر دیا۔ ہم امید کرتے ہیں اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں، ان کے بدلے میں وہ ہمیں اپنی بھلائی سے محروم نہیں کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے صرف کافر ہی مایوس اور اس کی رحمت سے صرف گمراہ ہی ناامید ہوتے ہیں۔وَصَلَّی اللہُ وَسَلَّمَ عَلٰی رَسُولِہِ مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ أَجْمَعِینَ صَلَاۃً وَّسَلَامًا دَائِمًا مُّتَوَاصِلِینَ أَبَدَا الْأَوْقَاتِ وَالْحَمْدُ لِلہِ الَّذِي بِنِعْمَتِہِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ. کتاب اللہ کی تفسیر اس کی مدد اور توفیق سے اس کے مرتب اور کاتب عبدالرحمن بن ناصر بن عبداللہ المعروف بہ ’’ابن سعدی‘‘ کے ہاتھوں مکمل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس کی، اس کے والدین کی اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے۔ اور اس کی ترتیب یکم ربیع الاول ۱۳۴۴ھ میں اور اس کی نقل شعبان ۱۳۴۵ھ میں مکمل ہوئی۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا وَاعْفُ عَنَّا إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ ۔