Al-Falaq
Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.
Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلْفَلَقِ 1 مِن شَرِّ مَا خَلَقَ 2 وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ 3 وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّـٰثَـٰتِ فِى ٱلْعُقَدِ 4 وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ 5
کہہ دیجیے: میں پناہ میں آتا ہوں صبح کے رب کی(1)(ہر) اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی(2) اور اندھیری رات کے شرسے جب وہ چھا جائے(3) اور پھونکیں مارنے والیوں کے شر سے گرہوں میں(4) اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿قُلۡ﴾ یعنی آپ اللہ کی پناہ مانگنے کے لیے کہیے : ﴿اَعُوۡذُ﴾ میں پناہ ڈھونڈتا ہوں اور اپنا بچاؤ تلاش کرتا ہوں ﴿بِرَبِّ الۡفَلَقِ﴾ ’’ربِ فلق کے ذریعے سے۔‘‘ یعنی جو دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا ہے اور صبح کو نمودار کرتا ہے۔
[2]﴿مِنۡ شَرِّ مَا خَلَقَ﴾ ’’ہر چیز کے شر سے جو اس نے بنائی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق، انسان، جنات اور حیوانات سب کو شامل ہے۔ پس ان تمام مخلوقات کے اندر موجود شر سے ان کو پیدا کرنے والے کی پناہ مانگی جاتی ہے۔
[3] پھر اللہ تعالیٰ نے عام کا ذکر کرنے کے بعد خاص کا ذکر کیا، فرمایا :﴿ وَمِنۡ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ﴾ ’’اور شبِ تاریک کی برائی سے جب اس کا اندھیرا چھا جائے۔‘‘ یعنی میں اس شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جو رات کے اندر ہوتا ہے، جب وہ لوگوں پر چھا جاتا ہے اور اس میں بہت سی شریر ارواح اور موذی حیوانات پھیل جاتے ہیں۔
[4]﴿وَمِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الۡعُقَدِ﴾ یعنی جادو کرنے والی عورتوں کے شر سے جو اپنے جادو میں گرہوں میں پھونکوں سے کام لیتی ہیں جن کو وہ جادو کے لیے باندھتی ہیں۔
[5]﴿وَمِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ﴾ ’’اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔‘‘ حاسد وہ ہے جو محسود کی نعمت کا زوال چاہتا ہے اور ان تمام اسباب کے ذریعے سے، جن پر وہ قادر ہے اس نعمت کے زوال کے لیے کوشاں رہتا ہے، تب اس کے شر سے بچنے اور اس کے مکر و فریب کے ابطال کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ کی حاجت ہوتی ہے۔ نظر لگانے والا بھی حاسد ہی شمار ہوتا ہے کیونکہ نظر بد صرف حاسد، شریر الطبع اور خبیث النفس شخص ہی سے صادر ہوتی ہے۔یہ سورۂ کریمہ عام طور پر اور خاص طور پر شر کی تمام انواع سے استعاذہ کو متضمن ہے۔ نیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جادو کی حقیقت ہے، اس کے ضرر سے ڈرا جاتا ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی جاتی ہے۔