An-Nasr
Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.
Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21
إِذَا جَآءَ نَصْرُ ٱللَّهِ وَٱلْفَتْحُ 1 وَرَأَيْتَ ٱلنَّاسَ يَدْخُلُونَ فِى دِينِ ٱللَّهِ أَفْوَاجًا 2 فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَٱسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابًۢا 3
جب آ جائے مدد اللہ کی اور فتح(1) اور آپ دیکھیں لوگوں کو کہ وہ داخل ہو رہے ہیں اللہ کے دین میں فوج در فوج(2) تو آپ تسبیح کیجیے ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور بخشش مانگیے اس سے، بلاشبہ وہ ہے بڑا توبہ قبول کرنے والا(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اس سورۂ کریمہ میں ایک خوشخبری ہے، اس خوشخبری کے حاصل ہو جانے پر رسول اللہﷺ کے لیے ایک حکم ہے، نیز اس میں اس خوشخبری پر مترتب ہونے والے احوال کی طرف اشارہ اور اس پر تنبیہ ہے۔خوشخبری اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺ کے لیے نصرت، فتح مکہ اور لوگوں کے اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے کی ہے، ان میں سے بہت لوگ آپ کے دشمن تھے، اس کے بعد وہی لوگ آپ کے اعوان و انصار ہوں گے اور جس چیز کے بارے میں خوشخبری دی گئی تھی وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔رہا فتح و نصرت کے بعد حکم تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ اس فتح و نصرت پر اس کا شکر ادا کریں، اس کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کریں اور اس سے استغفار کریں۔رہا اشارہ تو اس میں دو اشارے ہیں:اول: دین اسلام دائمی فتح و نصرت سے بہرہ مند رہے گا، اس کے رسول کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور استغفار پر اس نصرت میں اضافہ ہو گا کیونکہ تسبیح و استغفار، شکر ہی شمار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لَىِٕنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ ﴾(ابراہیم:14؍7) ’’اگر تم شکر کرو گے تو میں تمھیں اور زیادہ عطا کروں گا۔‘‘اور یہ چیز خلفائے راشدین کے زمانے میں اور ان کے بعد بھی امت کو حاصل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمیشہ ہم رکاب رہی، یہاں تک کہ اسلام اس مقام پر پہنچ گیا جہاں تمام ادیان میں سے کوئی دین نہیں پہنچ سکا، حتیٰ کہ امت سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی مخالفت میں افعال صادر ہونے لگے۔ پس اللہ تعالیٰ نے تفرقِ کلمہ اور تشتُّتِ امر کے ذریعے سے انھیں آزمایا۔ پس پھر جو ہونا تھا ہوا۔ بایں ہمہ اس امت پر اور اس دین پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور نہ خیال کی وہاں تک رسائی ہی ہے۔دویم : رہا دوسرا اشارہ تو یہ رسول اللہﷺ کی وفات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی اجل قریب آ گئی ہے، اس کی وجہ یہ کہ آپ کی عمر مبارک فضیلت والی عمر ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے اور اس نے مقرر فرما دیا ہے کہ فضیلت والے امور کا اختتام استغفار کے ساتھ ہو ، مثلاً: نماز اور حج وغیرہ۔ پس اللہ تعالیٰ کا اس حال میں آپ کو حمد و استغفار کا حکم دینا اس مر کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی وفات کا وقت قریب آ گیا ہے۔ اب آپ کو اپنے رب کی ملاقات کے لیے مستعد اور تیار رہنا چاہیے اور آپ کو اپنی عمر کا اختتام اس افضل ترین چیز پر کرنا چاہیے جو آپ موجود پاتے ہیں۔ صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ. چنانچہ آپ قرآن کی (اس آیت کی) تاویل کرتے ہوئے اپنی نماز کے اندر، رکوع و سجود میں نہایت کثرت سے یہ پڑھا کرتے تھے :’سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِي‘ (صحیح البخاري، الاذان، باب الدعاء فی الرکوع، ح: 794 و صحیح مسلم، الصلوۃ، باب ما یقال فی الرکوع والسجود، ح: 484)’’اے اللہ! اے ہمارے رب! ہم تیری حمد و ثنا کے ساتھ تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں، اے اللہ! مجھے بخش دے۔‘‘