Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · At-Tawba
Sūrah 9

At-Tawba

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verse 100

وَٱلسَّـٰبِقُونَ ٱلْأَوَّلُونَ مِنَ ٱلْمُهَـٰجِرِينَ وَٱلْأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحْسَـٰنٍ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّـٰتٍ تَجْرِى تَحْتَهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ 100

اور سبقت کرنے والے( قبول اسلام میں ) سب سے پہلے مہاجرین اور انصار میں سے اور وہ لوگ جنھوں نے اتباع کیا ان کا ساتھ احسان کے، راضی ہو گیا اللہ ان سے اور وہ راضی ہو گئے اللہ سے اور تیار کیے ہیں اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات کہ بہتی ہیں نیچے ان کے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک ، یہی ہے کامیابی بہت بڑی(100)

[100]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴾ ’’جو لوگ قدیم ہیں سب سے پہلے‘‘ اس سے مراد اس امت کے وہ لوگ ہیں جنھوں نے ایمان، ہجرت، جہاد اور اقامت دین میں سبقت کی۔ ﴿ مِنَ الۡمُهٰؔجِرِيۡنَ ﴾ ’’ہجرت کرنے والوں میں سے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو ان کے گھروں اور مال و متاع سے بے دخل کر کے نکال دیا گیا، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رضا کی تلاش میں رہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں ۔ یہی درحقیقت سچے لوگ ہیں ۔ ﴿ وَالۡاَنۡصَارِ ﴾ ’’اور انصار میں سے۔‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے مہاجرین سے پہلے، ہجرت کے گھر (یعنی مدینہ منورہ)اور ایمان میں جگہ پکڑی، جو کوئی ہجرت کر کے ان کے پاس جاتا ہے یہ اس سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو عطا کیا گیا ہے وہ اس کے متعلق دل میں کوئی خلش نہیں پاتے اور مہاجرین کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی کیوں نہ ہو۔﴿ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِـاِحۡسَانٍ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی پیروی کی نیکی کے ساتھ‘‘ جنھوں نے عقائد، اقوال اور اعمال میں ان مہاجرین و انصار کی پیروی کی، یہی وہ لوگ ہیں جو مذمت سے بچے ہوئے ہیں ، جنھیں مدح کا بلند ترین درجہ اور اللہ کی طرف سے کرامت کا افضل ترین مقام حاصل ہے۔ ﴿ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اللہ ان سے راضی ہو گیا‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی رضا جنت کی نعمتوں سے بھی بڑی ہے۔ ﴿ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغ تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔‘‘ بہنے والی وہ نہریں جو جنت، جنت کی خوبصورت پھلواریوں اور جنت کے عمدہ باغات کو سیراب کرتی ہیں ۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا﴾’’ہمیشہ اس میں رہیں گے ابد تک۔‘‘ یعنی وہ اس جنت سے کسی اور جگہ منتقل ہونا چاہیں گے نہ اس کو بدلنا کیونکہ وہ جب بھی کسی چیز کی تمنا کریں گے اس کو حاصل کر لیں گے اور جب بھی کسی چیز کا ارادہ کریں گے اس کو موجود پائیں گے۔﴿ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی ہے بڑی کامیابی۔‘‘ جہاں انھیں ان کے نفس کی ہر محبوب چیز، روح کی لذت، دلوں کی نعمت اور بدن کی شہوت حاصل ہوگی اور بچنے کے قابل ہر چیز کو ان سے دور رکھا جائے گا۔