Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Fajr
Sūrah 89

Al-Fajr

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 21–30

كَلَّآ إِذَا دُكَّتِ ٱلْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا 21 وَجَآءَ رَبُّكَ وَٱلْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا 22 وَجِا۟ىٓءَ يَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَـٰنُ وَأَنَّىٰ لَهُ ٱلذِّكْرَىٰ 23 يَقُولُ يَـٰلَيْتَنِى قَدَّمْتُ لِحَيَاتِى 24 فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُۥٓ أَحَدٌ 25 وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُۥٓ أَحَدٌ 26 يَـٰٓأَيَّتُهَا ٱلنَّفْسُ ٱلْمُطْمَئِنَّةُ 27 ٱرْجِعِىٓ إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً 28 فَٱدْخُلِى فِى عِبَـٰدِى 29 وَٱدْخُلِى جَنَّتِى 30

ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)

[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔

[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔

[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔