Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Mutaffifin
Sūrah 83

Al-Mutaffifin

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 7–17

كَلَّآ إِنَّ كِتَـٰبَ ٱلْفُجَّارِ لَفِى سِجِّينٍ 7 وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا سِجِّينٌ 8 كِتَـٰبٌ مَّرْقُومٌ 9 وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ 10 ٱلَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ 11 وَمَا يُكَذِّبُ بِهِۦٓ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ 12 إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ءَايَـٰتُنَا قَالَ أَسَـٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ 13 كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ 14 كَلَّآ إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ 15 ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُوا۟ ٱلْجَحِيمِ 16 ثُمَّ يُقَالُ هَـٰذَا ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ 17

یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17)

[9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔

[13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔

[17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔