Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Anfaal
Sūrah 8

Al-Anfaal

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 50–52

وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ يَتَوَفَّى ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۙ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَـٰرَهُمْ وَذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْحَرِيقِ 50 ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّـٰمٍ لِّلْعَبِيدِ 51 كَدَأْبِ ءَالِ فِرْعَوْنَ ۙ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِىٌّ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ 52

اور کاش! دیکھیں آپ جبکہ جان قبض کرتے ہیں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، فرشتے، مارتے ہیں وہ (فرشتے) ان کے چہروں کو اور ان کی پیٹھوں کو اور (کہتے ہیں) چکھو عذاب جلانے والا(50)یہ بسبب اس کے ہے جو آگے بھیجا تمھارے ہاتھوں نے اور یہ کہ بے شک اللہ نہیں ہے ظلم کرنے والا اپنے بندوں پر(51)جیسے عادت تھی آل فرعون اوران لوگوں کی جو ان سے پہلے تھے، کفر کیا انھوں نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ تو پکڑ لیا ان کو اللہ نے بسبب ان کے گناہوں کے، بے شک اللہ طاقت ور سخت سزا دینے والا ہے(52)

[50] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کفر کا ارتکاب کرنے والوں کو اس وقت دیکھیں جب موت کے فرشتے ان کی روح قبض کر رہے ہوں گے، ان کو سخت قلق ہوگا اور وہ سخت تکلیف اور کرب میں ہوں گے ﴿ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ﴾ ’’مارتے ہیں وہ ان کے مونہوں پر اور ان کے پیچھے‘‘ اور ان سے کہتے ہیں ۔ ’’اپنی جان نکالو‘‘ ان کی جانیں نکلنے سے انکار کریں گی کیونکہ انھیں علم ہے کہ انھیں کس دردناک عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾ ’’اور عذاب آتش چکھو۔‘‘ یعنی نہایت سخت اور جلانے والے عذاب کا مزا چکھو۔

[51] یہ عذاب تمھیں تمھارے رب کی طرف سے کسی ظلم و جور کی وجہ سے نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ یہ صرف تمھارے گناہوں کی پاداش ہے جن کی یہ تاثیر ہے جس نے یہ اثر دکھایا ہے۔

[52] اور اولین و آخرین کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے۔ کیونکہ ان جھٹلانے والوں کی عادت اور ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کی ہلاکت ایسے ہی ہے ﴿ كَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ١ۙ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’جیسے عادت آل فرعون کی تھی اور ان کی جو ان سے پہلے تھے‘‘ یعنی انبیاء و مرسلین کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں میں سے ﴿ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’انھوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔‘‘اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ لیا ﴿بِذُنُوۡبِهِمۡ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’ان کے گناہوں پر، یقینا اللہ طاقت ور ہے، سخت عذاب کرنے والا۔‘‘اللہ تعالیٰ اپنے عذاب کے ساتھ جس کی گرفت کرنا چاہے تو اسے کوئی بے بس نہیں کر سکتا۔ ﴿مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾(ھود: 11؍56) ’’زمین پر چلنے والا جو بھی جانور ہے اللہ نے اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ رکھا ہے۔‘‘