Al-Mursalaat
This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.
Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21
إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى ظِلَـٰلٍ وَعُيُونٍ 41 وَفَوَٰكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ 42 كُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ هَنِيٓـًٔۢا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ 43 إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ 44 وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ 45
بلاشبہ متقی لوگ سایوں اور بہتے چشموں میں ہوں گے (41) اور (لذیذ) میووں میں، ان میں سے جو وہ چاہیں گے (42)(کہا جائے گا) تم کھاؤ اور پیو مزے سے بدلے اس کے جو تھے تم عمل کرتے (43) بلاشبہ ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (44) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (45)
[45-41] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل تکذیب کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا اس لیے محسنین کے لیے ثواب کا بھی تذکرہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیز گار‘‘ یعنی اپنے اقوال، افعال اور اعمال میں، تکذیب سے بچنے والے اور تصدیق سے متصف لوگ، اور واجبات کو ادا کیے اور محرمات کو ترک کیے بغیر متقی نہیں بن سکتے ﴿ فِيۡ ظِلٰلٍ﴾ متنوع اقسام کے خوبصورت اور خوش منظر کثیر درختوں کے سائے میں ہوں گے ﴿ وَّعُيُوۡنٍ﴾ اور خوش ذائقہ پانی اور شراب کے رواں دواں چشموں میں ہوں گے۔﴿ وَّفَوَاكِهَ مِمَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾ اور بہترین اور لذیذ ترین میوہ جات، جو وہ چاہیں گے، ان میں ہوں گے۔ان سے کہا جائے گا:﴿كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾کھاؤ پیو، مزے دار مرغوب کھانے اور لذیذ مشروبات پیو﴿ هَنِيۡٓــًٔۢـا﴾ یعنی کسی روک ٹوک اور تکدر کے بغیر۔ اس کھانے کی خوشگواری کبھی ختم نہ ہو گی، حتیٰ کہ جنت کے مطعومات اور مشروبات ہر آفت اور نقص سے سلامت ہوں گے یہاں تک کہ اہل جنت کو یقین ہو گا کہ یہ طعام و شراب منقطع ہوں گے نہ ختم ہوں گے ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ پس تمھارے اعمال ہی وہ سبب ہیں جنھوں نے تمھیں ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں پہنچایا۔ اسی طرح ہے ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں احسان سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر احسان کرتا ہے۔بنابریں فرمایا: ﴿ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’بے شک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلا کت ہے۔‘‘ اگر یہ ہلاکت اور خرابی صرف ان نعمتوں سے محرومی ہی ہوتی تب بھی یہ حزن و غم اور حرماں نصیبی کے لیے کافی ہے۔