Al-A'raaf
This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.
Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21
وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيْطَـٰنِ نَزْغٌ فَٱسْتَعِذْ بِٱللَّهِ ۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٌ عَلِيمٌ 200 إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ إِذَا مَسَّهُمْ طَـٰٓئِفٌ مِّنَ ٱلشَّيْطَـٰنِ تَذَكَّرُوا۟ فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ 201 وَإِخْوَٰنُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِى ٱلْغَىِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ 202
اوراگر ابھارے آپ کو شیطان کا کوئی وسوسہ تو پناہ مانگیے اللہ کی، یقینا وہ خوب سننے اور خوب جاننے والا ہے(200)بے شک وہ لوگ جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا جب پہنچتا ہے انھیں کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے چونک پڑتے ہیں، پھر ناگہاں وہ سوجھ بوجھ والے ہوجاتے ہیں(201)اور بھائی ان (شیاطین) کے، کھینچتے ہیں وہ انھیں گمراہی میں پھر نہیں وہ کمی کرتے(202)
[200]﴿ وَاِمَّا يَنۡزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيۡطٰنِ نَزۡغٌ ﴾ ’’ابھارے آپ کو شیطان کی چھیڑ‘‘ یعنی کسی وقت اور کسی حال میں بھی اگر آپ شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ، بھلائی کے راستے میں رکاوٹ، برائی کی ترغیب اور اکتاہٹ محسوس کریں ﴿ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ کی پناہ لیجئے‘‘ اور اس کی حفاظت میں آکر محفوظ ہو جائیے ﴿ اِنَّهٗ سَمِيۡعٌ ﴾ ’’بے شک وہ سننے والا ہے۔‘‘ آپ جو کچھ کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے۔ ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ آپ کی نیت، آپ کی کمزوری اور آپ کی پناہ لینے کی قوت کو خوب جانتا ہے، وہ آپ کو اس کے فتنے سے محفوظ رکھے گا اور آپ کو اس کے وسوسوں سے بچائے گا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ۰۰مَلِكِ النَّاسِۙ۰۰اِلٰهِ النَّاسِۙ۰۰مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ١ۙ۬ الۡؔخَنَّاسِ۪ۙ۰۰الَّذِيۡ يُوَسۡوِسُ فِيۡ صُدُوۡرِ النَّاسِۙ۰۰مِنَ الۡؔجِنَّةِ وَالنَّاسِ۰۰﴾(الناس: 114؍1-6) ’’کہو میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی، لوگوں کے بادشاہ حقیقی کی، لوگوں کے معبود کی، شیطان وسوسہ انداز کی برائی سے، شیطان پیچھے ہٹ جانے والے سے جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے خواہ وہ شیطان جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے‘‘۔
[201] جب بندے کا غافل ہو جانا اور اس شیطان کا اس کو کچھ نہ کچھ شکار کر لینا لابدی امر ہے، جو ہمیشہ گھات لگائے رہتا اور بندے کی غفلت کا منتظر رہتا ہے تو اب اللہ تعالیٰ نے گمراہ کرنے والوں سے بچ جانے والوں کی علامت ذکر کی ہے... اور صاحب تقویٰ جب شیطانی وسوسے کو محسوس کر لیتا ہے اور وہ کسی فعل واجب کو ترک کر کے یا کسی فعل حرام کا ارتکاب کر کے گناہ کر بیٹھتا ہے تو فوراً اسے تنبیہ ہوتی ہے، وہ غور کرتا ہے کہ شیطان کہاں سے حملہ آور ہوا ہے اور کون سے دروازے سے داخل ہوا ہے۔ وہ ان تمام لوازم ایمان کو یاد کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب قرار دیے ہیں تو اسے بصیرت حاصل ہو جاتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے اور جو اس سے کوتاہی واقع ہوئی ہے توبہ اور نیکیوں کی کثرت کے ذریعے سے اس کی تلافی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پس وہ شیطان کو ذلیل و رسوا کر کے دھتکار دیتا ہے اور شیطان نے اس سے جو کچھ حاصل کیا ہوتا ہے، اس پر پانی پھیر دیتا ہے۔
[202] رہے شیاطین کے بھائی اور ان کے دوست تو یہ جب کسی گناہ میں پڑ جاتے ہیں تو یہ اپنی گمراہی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں ، گناہ پر گناہ کرتے ہیں اور گناہ کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے، پس شیاطین بھی ان کو بد راہ کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے کیونکہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ وہ نہایت آسانی سے ان کے تابع ہو جاتے ہیں اور برائی کے ارتکاب میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے تو وہ ان کی بدراہی کے بہت خواہش مند ہو جاتے ہیں ۔