Al-A'raaf
This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.
Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21
وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِٱلْحَقِّ وَبِهِۦ يَعْدِلُونَ 181
اوران میں سے جنھیں پیدا کیا ہم نے ایک جماعت جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کےاور ساتھ اسی کے وہ عدل کرتی ہے(181)
[181]﴿ وَمِمَّنۡ خَلَقۡنَاۤ اُمَّةٌ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان تمام لوگوں میں جن کو ہم نے پیدا کیا ہے ایک ایسا گروہ بھی ہے جو فضیلت کا مالک ہے، جو خود کامل ہے اور دوسروں کی حق کی طرف راہ نمائی کرتا ہے، یہ لوگ حق کا علم رکھتے ہیں ، اس پر عمل کرتے ہیں ، حق کی تعلیم دیتے، اس کی طرف بلاتے اور اس پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔ ﴿ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ جب وہ لوگوں کے مال، خون، حقوق اور ان کے مقالات وغیرہ کے بارے میں فیصلے کرتے ہیں تو حق کی بنیاد پر انصاف کرتے ہیں ۔ یہ لوگ ائمہ ہدی اور تاریکیوں میں روشن قندیل ہیں ۔ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان، عمل صالح، حق کی وصیت اور صبر کی وصیت جیسی نعمتوں سے نوازا ہے۔ وہ صدیق ہیں جن کا مرتبہ رسالت کے بعد ہے اور خود ان کے مراتب میں ان کے احوال اور قدر و منزلت کے مطابق تفاوت ہے۔پس پاک ہے وہ ذات جو اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتی ہے، مختص کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل کا مالک ہے۔ وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ان آیات کی تکذیب کی، جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل ہونے والی کتاب اور ہدایت کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ، پس انھوں نے ان کو ٹھکرا دیا اور ان کو قبول نہ کیا ﴿سَنَسۡتَدۡرِجُهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسی جگہ سے پکڑیں گے جہاں سے ان کو خبر بھی نہ ہوگی‘‘ یعنی اس طرح کہ اللہ تعالیٰ ان کو وافر رزق بہم پہنچاتا ہے۔