Al-Mulk
This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.
Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21
أَمَّنْ هَـٰذَا ٱلَّذِى هُوَ جُندٌ لَّكُمْ يَنصُرُكُم مِّن دُونِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ۚ إِنِ ٱلْكَـٰفِرُونَ إِلَّا فِى غُرُورٍ 20 أَمَّنْ هَـٰذَا ٱلَّذِى يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُۥ ۚ بَل لَّجُّوا۟ فِى عُتُوٍّ وَنُفُورٍ 21
بھلا کون ہے جو وہ لشکر ہو تمھارا، کہ وہ مدد کرے تمھاری سوائے رحمن کے؟ نہیں ہیں کافر مگر دھوکے ہی میں (20) بھلا کون ہے وہ جو وہ رزق دے تمھیں اگر روک لے رحمن اپنا رزق ؟بلکہ وہ اڑے ہوئے ہیں سرکشی اور(حق سے)گریز پر (21)
[20] اللہ تعالیٰ اپنے امر سے دور بھاگنے اور حق سے روگردانی کرنے والے سرکشوں سے فرماتا ہے: ﴿ اَمَّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ هُوَ جُنۡدٌ لَّـكُمۡ يَنۡصُرُؔكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ﴾ یعنی جب رحمٰن تمھارے ساتھ کوئی برائی کرنے اارادہ کرے تو کون سا تمھارا لشکر اس برائی کو تم سے دور کرسکتا ہے؟ یعنی رحمان کے سوا تمھارے دشمنوں کے خلاف کون تمھاری مدد کر سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا، عزت عطا کرنے والا اور ذلت سے ہم کنار کرنے والا ہے اور اس کے سوا تمام مخلوق کسی بندے کی مدد کے لیے اکٹھی ہو جائے تو کسی بھی دشمن کے خلاف اسے ذرہ بھر فائدہ نہیں دے سکتی۔پس کفار کا یہ جان لینے کے بعد کہ رحمان کے سوا کوئی ان کی مدد نہیں کر سکتا، اپنے کفر پر جمے رہنا فریب اور حماقت کے سوا کچھ نہیں۔
[21]﴿ اَمَّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ يَرۡزُقُكُمۡ اِنۡ اَمۡسَكَ رِزۡقَهٗ﴾ یعنی رزق تمام تر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اگر وہ تم سے رزق کو روک لے تو کون تمھارے لیے رزق بھیج سکتا ہے؟ کیونکہ مخلوق تو خود اپنے رزق پر قادر نہیں، دوسروں کو کیسے رزق دے سکتی ہے؟ بندوں کو جو نعمت عطا ہوتی ہے صرف اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ پس رزق عطا کرنے والی اور نعمتوں سے بہرہ ور کرنے والی ہی اس بات کی مستحق ہے کہ اسی اکیلے کی عبادت کی جائے۔مگر کفار ﴿لَّجُّوۡا﴾ جمے ہوئے ہیں ﴿ فِيۡ عُتُوٍّ﴾ حق کے معاملے میں سختی اور درشتی میں ﴿ وَّنُفُوۡرٍ﴾ ’’اور نفرت میں۔‘‘ یعنی حق سے دور بھاگتے ہیں۔