Al-An'aam
This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.
Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21
وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ وُقِفُوا۟ عَلَى ٱلنَّارِ فَقَالُوا۟ يَـٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِـَٔايَـٰتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ 27 بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا۟ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا۟ لَعَادُوا۟ لِمَا نُهُوا۟ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـٰذِبُونَ 28 وَقَالُوٓا۟ إِنْ هِىَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ 29
اور اگر آپ دیکھیں جبکہ کھڑے کیے جائیں گے وہ اوپر آگ کے تو کہیں گے، اے کاش! ہم لوٹا دیے جائیں تو نہ جھٹلائیں گے ہم آیات اپنے رب کی اور ہوں گے ہم مومنوں سے(27)بلکہ ظاہر ہو جائے گا ان کے لیے جو تھے وہ چھپاتے پہلےاور اگر وہ لوٹا دیے جائیں تب بھی کریں گے وہ ، پھر وہی کام کہ روکے گئے تھے وہ ان سےاور یقینا وہ جھوٹے ہیں (28) اور کہتے ہیں وہ کہ نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا کی اور نہیں ہم اٹھائے جائیں گے(29)
[27] اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مشرکین کے حال اور جہنم کے سامنے ان کو کھڑے کیے جانے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ تَرٰۤى اِذۡ وُقِفُوۡا عَلَى النَّارِ ﴾ ’’اگر آپ دیکھیں جس وقت کھڑے کیے جائیں گے وہ دوزخ پر‘‘ تاکہ ان کو زجر و توبیخ کی جائے.... تو آپ بہت ہولناک معاملہ اور ان کا بہت برا حال دیکھتے نیز آپ یہ دیکھتے کہ یہ لوگ اپنے کفر و فسق کا اقرار کرتے ہیں اور تمنا کرتے ہیں کہ کاش ان کو دنیا میں پھر واپس بھیجا جائے ﴿ فَقَالُوۡا يٰلَيۡتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ کہیں گے، اے کاش ہم پھر بھیج دیے جائیں اور ہم نہ جھٹلائیں اپنے رب کی آیتوں کو اور ہو جائیں ہم ایمان والوں میں سے‘‘
[28]﴿ بَلۡ بَدَا لَهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُخۡفُوۡنَ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ بلکہ ظاہر ہو گیا جو وه چھپاتے تھے پہلے‘‘ اس لیے کہ وہ اپنے دل میں اس حقیقت کو چھپاتے تھے کہ وہ جھوٹے ہیں اور ان کے دلوں کا جھوٹ بسا اوقات ظاہر ہو جاتا تھا۔ مگر ان کی فاسد اغراض ان کو حق سے روک دیتی تھیں اور ان کے دلوں کو بھلائی سے پھیر دیتی تھیں ، وہ اپنی ان تمناؤں میں جھوٹے ہیں ، ان کا مقصد محض اپنے آپ کو عذاب سے ہٹانا ہے۔ ﴿ وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’اگر ان کو واپس لوٹا بھی دیا گیا تو یہ دوبارہ وہی کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا ہے۔ اور بے شک یہ سخت جھوٹے ہیں ۔‘‘
[29]﴿وَقَالُوۡۤا ﴾ ’’اور وہ کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرنے والے کہتے ہیں ﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا ﴾ ’’ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے۔‘‘ یعنی حقیقت حال یہ ہے کہ ہمیں وجود میں لانے کا اس دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠ ﴾ ’’ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘