Al-Mujaadila
This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.
Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ ٱللَّهُ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوٓا۟ ۚ أَحْصَىٰهُ ٱللَّهُ وَنَسُوهُ ۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ شَهِيدٌ 6 أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۖ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَـٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَآ أَدْنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا۟ ۖ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا۟ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ 7
جس دن اٹھائے گا ان کو اللہ، سب کو، پھر وہ خبر دے گا انھیں اس کی جو عمل کیے تھے انھوں نے، شمار کر رکھا ہے اس کو اللہ نے جبکہ وہ بھول گئے تھے اسے، اور اللہ اوپر ہر چیز کے شاہد ہے(6) کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، نہیں ہوتی کوئی سرگوشی تین(آدمیوں)کی مگر وہ چوتھا ہوتا ہے ان میں، اور نہ پانچ (آدمیوں) کی مگر وہ چھٹا ہوتا ہے ان میں، اور نہ کم اس سے اور نہ زیادہ مگر وہ ہوتا ہے ساتھ ان کے جہاں کہیں بھی وہ ہوں، پھر وہ خبر دے گا انھیں اس کی جو انھوں نے عمل کیے تھے روز قیامت، بلاشبہ اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(7)
[6] یعنی جس روز اللہ تعالیٰ مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ ﴿ جَمِيۡعًا﴾ ’’سب کو۔‘‘ تو وہ اپنی قبروں سے تیزی سے نکل کھڑے ہوں گے ، پھر وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿فَيُنَبِّئُهُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا﴾ چنانچہ انھوں نے جو اچھے برے اعمال کیے ہوں گے، اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا کیونکہ اسے ان تمام اعمال کا علم ہے اور ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے اور حفاظت پر مامور ملائکہ کرام کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ ان اعمال کو درج کرتے رہیں۔ اور عمل کرنے والوں کی حالت یہ ہے کہ ﴿ وَنَسُوۡهُ﴾ انھوں نے اپنے اعمال کو فراموش کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو شمار کر رکھا ہے ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اللہ تعالیٰ، تمام ظاہری باتوں، تمام اسرار نہاں، اور تمام چھپی ہوئی چیزوں کو دیکھتا ہے۔
[7] بنابریں اس نے اپنے لا محدود علم کے بارے میں خبر دی ہے نیز آگاہ فرمایا کہ اس کا علم آسمانوں اور زمین کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ ایسی ہستی ہے کہ ﴿ مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡا﴾’’ کسی بھی جگہ تین اشخاص کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر چوتھا وہ ہوتا ہے، نہ کہیں پانچ اشخاص کی سرگوشی ہوتی ہے مگر چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ اشخاص سرگوشی کرتے ہیں مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘ اس معیت سے مراد معیت علم، ان کی سرگوشیوں اور ان کے سرا ئر کا احاطہ ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بلاشبہ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: