Al-Qamar
This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.
Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ۘ يَوْمَ يَدْعُ ٱلدَّاعِ إِلَىٰ شَىْءٍ نُّكُرٍ 6 خُشَّعًا أَبْصَـٰرُهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ ٱلْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ 7 مُّهْطِعِينَ إِلَى ٱلدَّاعِ ۖ يَقُولُ ٱلْكَـٰفِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ 8
سو اعراض کیجیے ان سے، (یاد کریں!) جس دن بلائے گا بلانے والا نہایت ہولناک چیز کی طرف(6) جھکی ہوں گی ان کی نگاہیں، وہ نکلیں گے قبروں سے (ایسے) گویا کہ وہ ٹڈی دل ہے منتشر(7) دوڑ رہے ہوں گے وہ بلانے والے کی طرف کہیں گے کافر، یہ دن ہے نہایت سخت(8)
[6] اللہ تعالیٰ تبارک و تعالیٰ رسول ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ بات واضح ہو گئی کہ اہل تکذیب کی ہدایت کا اب کوئی حیلہ نہیں، ان کے اندر روگردانی کے سوا کچھ باقی نہیں رہا تو فرمایا:﴿ فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ﴾ ’’چنانچہ (اے نبی!) آپ بھی ان سے اعراض کریں۔‘‘ آپ ان کے لیے ایک بہت بڑے دن اور ایک بہت بڑی گھبراہٹ اور خوف کا انتظار کیجیے۔ یہ وہ دن ہو گا جب ﴿ يَوۡمَ يَدۡعُ الدَّاعِ﴾ ’’پکارنے والا پکارے گا‘‘ یعنی حضرت اسرافیلu ﴿ اِلٰى شَيۡءٍ نُّكُرٍ﴾ یعنی ایک بہت ہی برے معاملے کی طرف، طبیعت جس کا انکار کرے گی، تو نے اس سے برا اور اس سے بڑھ کر درد ناک منظر نہیں دیکھا ہوگا، پس اسرافیلu صور پھونکیں گے تو تمام مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر قیامت (کے میدان) میں کھڑے ہوں گے۔
[7]﴿ خُشَّعًا اَبۡصَارُهُمۡ﴾ ’’ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی۔‘‘ یعنی اس دہشت اور گھبراہٹ کے باعث جو ان کے دلوں میں پہنچ کر ان کو عاجز اور کمزور کر دے گی اور اس بنا پر ان کی نگاہیں پست ہو جائیں گی۔ ﴿ يَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ﴾ وہ قبروں سے یوں نکلیں گے۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’جیسے کہ وہ۔‘‘ اپنی کثرت اور بے ترتیب ہونے کی وجہ سے ﴿ جَرَادٌ مُّنۡتَشِرٌ﴾ ’’منتشر ٹڈی دل ہوں۔‘‘ یعنی وہ زمین میں پھیلے ہوئے اور بہت زیادہ ہوں گے۔
[8]﴿ مُّهۡطِعِيۡنَ اِلَى الدَّاعِ﴾ ’’اس بلانے والے کی طرف دوڑتے جاتے ہوں گے۔‘‘ یعنی پکارنے والے کی پکار کا جلدی سے جواب دیتے ہوئے ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ پکارنے والا انھیں پکارے گا اور قیامت کے میدان میں حاضر ہونے کا حکم دے گا، وہ اس کی پکار پر لبیک کہیں گے اور جلدی سے تعمیل کریں گے۔ ﴿ يَقُوۡلُ الۡكٰفِرُوۡنَ﴾ یعنی وہ کفار جن کے سامنے ان کا عذاب موجود ہو گا ، کہیں گے:﴿ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَسِرٌ ﴾ ’’یہ بڑا سخت دن ہے ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ غَيۡرُ يَسِيۡرٍ ﴾(المدثر: 10/74) ’’کافروں پر (وہ دن) آسان نہ ہوگا۔‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ دن مومنوں پر بہت آسان ہوگا۔