Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Qamar
Sūrah 54

Al-Qamar

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 1–5

ٱقْتَرَبَتِ ٱلسَّاعَةُ وَٱنشَقَّ ٱلْقَمَرُ 1 وَإِن يَرَوْا۟ ءَايَةً يُعْرِضُوا۟ وَيَقُولُوا۟ سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ 2 وَكَذَّبُوا۟ وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَهْوَآءَهُمْ ۚ وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ 3 وَلَقَدْ جَآءَهُم مِّنَ ٱلْأَنۢبَآءِ مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ 4 حِكْمَةٌۢ بَـٰلِغَةٌ ۖ فَمَا تُغْنِ ٱلنُّذُرُ 5

قریب آ گئی قیامت اور پھٹ گیا چاند(1) اور اگر وہ (مشرک) دیکھیں کوئی نشانی(معجزہ)تو اعراض کریں اور کہیں کہ (یہ تو) جادو ہے بڑا مضبوط (ہمیشہ سے چلا آتا)(2) اور انھوں نے جھٹلایا اور پیروی کی اپنی خواہشوں کی، اور ہر کام ٹھہرا ہوا ہے (اس کے لیے وقت مقرر ہے)(3) اور یقیناً آ چکی ہیں ان کے پاس خبریں وہ جن میں تنبیہ و نصیحت ہے(4)(اور) دانائی کی بات مکمل، پس نہیں فائدہ دیتیں تنبیہات(5)

[1] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ گھڑی، یعنی قیامت قریب آ گئی، اس کی آمد کا وقت ہو گیا، بایں ہمہ اس کو جھٹلانے والے جھٹلاتے چلے جا رہے ہیں اور اس کے نزول کے لیے تیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھاتا ہے جو اس کے وقوع پر دلالت کرتی ہیں، ان جیسی نشانیاں لانا انسان کے بس میں نہیں۔ حضرت محمد مصطفیﷺ جو کچھ لے کر مبعوث ہوئے ہیں، اس کی صداقت پر دلالت کرنے والا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ جب آپ کی تکذیب کرنے والوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ کوئی ایسا خارق عادت معجزہ دکھائیں جو قرآن کی صحت اور آپ کی صداقت پر دلالت کرے۔ تو آپ نے چاند کی طرف اشارہ کیا، پس چاند اللہ تعالیٰ کے حکم سے دو ٹکڑے ہو گیا ، ایک ٹکڑا جبل ابی قبیس پر اور ایک ٹکڑا جبل قعیقعان پر چلا گیا۔ مشرکین اس عظیم معجزے کا مشاہد ہ کر رہے تھے جو عالم علوی میں وقوع پذیر ہوا۔ جس میں مخلوق ملمع سازی کی قدرت رکھتی ہے نہ تخیل کی شعبدہ بازی کر سکتی ہے، چنانچہ انھوں نے ایک ایسے معجزے کا مشاہدہ کیا جو اس سے قبل انھوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا بلکہ انھوں نے کبھی سنا بھی نہیں تھا کہ آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء و مرسلین کے ہاتھوں پر اس جیسا معجزہ ظاہر ہوا ہو۔ وہ اس معجزے کو دیکھ کر مغلوب ہو گئے مگر ایمان ان کے دلوں میں داخل ہوا نہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بھلائی چاہی۔انھوں نے اپنی بہتان طرازی اور سرکشی میں پناہ لی اور کہنے لگے: محمد (ﷺ) نے ہم پر جادو کر دیا مگر اس کی علامت یہ ہے کہ تم کسی ایسے شخص سے پوچھو جو سفر پر سے تمھارے پاس آیا ہے اگر محمد ﷺ تم پر جادو کرنے کی طاقت رکھتے ہیں تو وہ اس شخص پر جادو نہیں کر سکتے جس نے تمھاری طرح (چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا)مشاہدہ نہیں کیا ، چنانچہ انھوں نے ہر اس شخص سے شق قمر کے بارے میں پوچھا جو سفر پر سے آئے، انھوں نے بھی شق قمر کے وقوع کے بارے میں خبر دی۔ اس پر انھوں نے کہا ﴿ سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ﴾ ’’یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے۔‘‘ محمد (ﷺ) نے ہم پر بھی جادو کر دیا اور دوسروں پر بھی۔ یہ ایسا بہتان ہے جو صرف انھی لوگوں میں رواج پا سکتا ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ بے قوف اور ہدایت اور عقل کے راستے سے سب سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔

[2] یہ ان کی طرف سے صرف اسی ایک معجزے کا انکار نہیں بلکہ ان کے پاس جو بھی معجزہ آتا ہے تو یہ اس کی تکذیب کرنے اور اس کو ٹھکرانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اس لیے فرمایا : ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا اٰيَةً يُّعۡرِضُوۡا﴾ ’’اگر وہ (مشرک) کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ موڑ لیتے ہیں۔‘‘ پس حق اور ہدایت کی اتباع کرنا ان کا مقصد نہیں، ان کا مقصد تو خواہشات نفس کی پیروی ہے۔

[3] اس لیے فرمایا: ﴿ وَؔكَذَّبُوۡا وَاتَّبَعُوۡۤا اَهۡوَآءَؔهُمۡ ﴾ ’’اور انھوں نے (اسے )جھٹلایا اور اپنی خواہشات کی اتباع کی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾(القصص:28؍50)’’پھر اگر وہ آپ کی بات کو قبول نہ کریں تو جان لیجیے کہ یہ تو صرف اپنی خواہشات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔‘‘ اگر ان کا مقصد ہدایت کی پیروی کرنا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے اور محمد مصطفیﷺ کی اتباع کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر انھیں براہین و بینات اور قطعی دلائل کا مشاہدہ کرایا ہے جو تمام مطالب الٰہیہ اور مقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہیں۔﴿ وَكُلُّ اَمۡرٍ مُّسۡتَقِرٌّ﴾ ’’ اور ہر کام کا وقت مقرر ہے۔‘‘ یعنی اب تک معاملہ اپنی غایت و منتہیٰ تک نہیں پہنچا، عنقریب معاملہ اپنے انجام کو پہنچے گا۔ تب تصدیق کرنے والے نعمتوں بھری جنتوں، اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رضا کے سائے میں چلے پھریں گے اور جھٹلانے والے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

[4] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا مقصد صحیح ہے نہ اتباع ہدایت ۔ ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَهُمۡ مِّنَ الۡاَنۢۡبـَآءِ﴾ ’’اور یقیناً ان کے پاس ایسی خبریں پہنچ چکی ہیں۔‘‘ یعنی سابقہ اور موجودہ خبریں اور معجزات ظاہرہ ﴿ مَا فِيۡهِ مُزۡدَجَرٌ ﴾’’جن میں تنبیہ و نصیحت ہے۔‘‘ یعنی ایک ایسا امر ہے جو ان کی گمراہی پر زجر و توبیخ کرتا ہے۔

[5]﴿ حِكۡمَةٌۢ بَالِغَةٌ﴾یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہے تاکہ تمام جہانوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے اور رسولوں کے مبعوث کیے جانے کے بعد کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے۔﴿فَمَا تُغۡنِ النُّذُرُ﴾ ’’پھر محض ڈرانا فائدہ مند نہیں ہوا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَۙ۰۰وَلَوۡ جَآءَتۡهُمۡ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾(یونس: 10؍96، 97) ’’وہ ایمان نہیں لائیں گے، خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آ جائے حتیٰ کہ وہ درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔‘‘