Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · At-Tur
Sūrah 52

At-Tur

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 44–46

وَإِن يَرَوْا۟ كِسْفًا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ سَاقِطًا يَقُولُوا۟ سَحَابٌ مَّرْكُومٌ 44 فَذَرْهُمْ حَتَّىٰ يُلَـٰقُوا۟ يَوْمَهُمُ ٱلَّذِى فِيهِ يُصْعَقُونَ 45 يَوْمَ لَا يُغْنِى عَنْهُمْ كَيْدُهُمْ شَيْـًٔا وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ 46

اور اگر وہ دیکھیں کوئی ٹکڑا آسمان سے گرتا ہوا تو وہ کہیں گے، (یہ) بادل ہے تہ بہ تہ (44) پس آپ چھوڑ دیجیے ان کو یہاں تک کہ وہ ملیں اپنے اس دن سے کہ جس میں وہ بے ہوش کیے جائیں گے (45) اس دن نہیں فائدہ دے گا انھیں ان کا فریب کچھ بھی اور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے (46)

[44] اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات میں ذکر فرماتا ہے کہ مشرکین جو واضح حق کو جھٹلا رہے ہیں، انھوں نے حق کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور باطل پر نہایت سختی سے جم گئے ہیں، نیز بیان فرمایا کہ اگر حق کے اثبات کے لیے ہر قسم کی دلیل قائم کر دی جائے تو ، پھر بھی وہ اس کی اتباع نہیں کریں گے بلکہ اس کی مخالفت کرتے رہیں گے اور اس سے عناد رکھیں گے ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كِسۡفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا﴾ یعنی اگر وہ بہت بڑی نشانیوں میں سے آسمان کا ٹکڑا عذاب بن کر گرتا دیکھیں ﴿ يَّقُوۡلُوۡا سَحَابٌ مَّرۡؔكُوۡمٌ﴾ تو کہیں گے کہ یہ تو عام عادت کے مطابق گہرا بادل ہے۔ یعنی وہ جن آیات الٰہی کا مشاہدہ کریں گے، اس کی پروا کریں گے نہ اس سے عبرت حاصل کریں گے۔

[45] عذاب اور سخت سزا کے سوا ان لوگوں کا کوئی علاج نہیں۔اس لیے فرمایا: ﴿ فَذَرۡهُمۡ حَتّٰى يُلٰقُوۡا يَوۡمَهُمُ الَّذِيۡ فِيۡهِ يُصۡعَقُوۡنَ﴾’’ پس ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ دن جس میں وہ بے ہوش کردیے جائیں گے، سامنے آجائے۔‘‘ اس سے مراد قیامت کا دن ہے جس میں ان پر عذاب نازل ہو گا جس کی مقدار کا انداز کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان کیا جا سکتا ہے۔

[46]﴿ يَوۡمَ لَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’جس دن ان کی چالیں (کم یا زیادہ) کچھ کام نہ آئیں گی۔‘‘ اگرچہ دنیا کے اندر انھوں نے سازشیں کیں اور ان کے ذریعے سے قلیل سے زمانے تک زندگی گزاری، قیامت کے دن ان کی سازشوں کا تار و پود بکھر جائے گا، ان کی دوڑ دھوپ رائیگاں جائے گی اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہ سکیں گے ﴿ وَّلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ﴾ اور نہ ان کی مدد ہی کی جائے گی۔