Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Ghaafir
Sūrah 40

Al-Ghaafir

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 79–81

ٱللَّهُ ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَنْعَـٰمَ لِتَرْكَبُوا۟ مِنْهَا وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ 79 وَلَكُمْ فِيهَا مَنَـٰفِعُ وَلِتَبْلُغُوا۟ عَلَيْهَا حَاجَةً فِى صُدُورِكُمْ وَعَلَيْهَا وَعَلَى ٱلْفُلْكِ تُحْمَلُونَ 80 وَيُرِيكُمْ ءَايَـٰتِهِۦ فَأَىَّ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ تُنكِرُونَ 81

اللہ وہ ہے جس نے بنائے تمھارے لیے چوپائے تاکہ سواری کرو تم ان میں سے بعض پر اور بعض کو ان میں سے تم کھاتے ہو(79) اور تمھارے لیے ان میں بہت فائدے ہیں اور تاکہ تم پہنچو ان پر (سوار ہو کر) اپنی حاجت کو جو تمھارے سینوں میں ہے اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو (80) اور وہ (اللہ) دکھاتا ہے تمھیں اپنی نشانیاں، پس کون سی اللہ کی نشانیوں کا تم انکار کرو گے؟ (81)

[79، 80]اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احسانات کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے ان کے لیے چوپائے پیدا کیے جن پر ان کے مفادات کا دارومدار ہے۔ ان میں سے کچھ مویشیوں کو وہ سواری اور نقل و حمل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ کچھ چوپایوں کا گوشت کھاتے اور ان کا دودھ پیتے ہیں۔ کچھ مویشیوں کی اون سے گرمی حاصل کرتے ہیں۔ ان کے بالوں، پشم اور اون سے آلات اور استعمال کا سامان بناتے ہیں اور ان سے دیگر فوائد حاصل کرتے ہیں۔﴿وَلِتَبۡلُغُوۡا عَلَيۡهَا حَاجَةً فِيۡ صُدُوۡرِكُمۡ ﴾ ’’اور تاکہ تم ان پر سوار ہوکر اپنی حاجت وضرورت کو پہنچو جو تمھارے سینوں میں ہے۔‘‘ یعنی تم ان دور دراز ملکوں میں پہنچ سکو جہاں پہنچنے کی اپنے دلوں میں ضرورت محسوس کرتے ہو اور تاکہ ان کے باعث ان کے مالکوں کو فرحت و سرور حاصل ہو۔ ﴿وَعَلَيۡهَا وَعَلَى الۡفُلۡكِ تُحۡمَلُوۡنَ﴾ ’’نیز ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو۔‘‘ یعنی تم زمینی سواریوں پر سواری کرتے ہو اور کشتیاں تمھیں سمندر میں اٹھائے پھرتی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے مسخر کر دیا اور تمھارے لیے ایسے چوپائے مہیا کر دیے جن کے بغیر تمھاری یہ سواریاں مکمل نہیں ہوتیں۔

[81]﴿وَيُرِيۡكُمۡ اٰيٰتِهٖ﴾’’اور وہ تمھیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔‘‘ جو اس کی وحدانیت اور اس کے اسماء و صفات پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو آفاق و انفس میں اپنی آیات کا مشاہدہ کرایا، بڑی بڑی نعمتوں سے بہرہ مند کیا اور ان نعمتوں کو شمار کیا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں، اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں۔﴿فَاَيَّ اٰيٰتِ اللّٰهِ تُنۡؔكِرُوۡنَ ﴾ ’’ پھر تم اللہ کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی کون کون سی آیات ہیں جن کا تم اعتراف نہیں کرتے؟ تمھارے نزدیک بھی یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ تمام آیات اور تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہیں، تب انکار کی کوئی گنجائش اور روگردانی کا کوئی موقع باقی نہیں۔ بلکہ یہ آیات اور نعمتیں عقل مندوں پر واجب ٹھہراتی ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور اس کی طرف متوجہ ہونے میں اپنی پوری کوشش صرف کریں۔