Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Az-Zumar
Sūrah 39

Az-Zumar

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 19–20

أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ ٱلْعَذَابِ أَفَأَنتَ تُنقِذُ مَن فِى ٱلنَّارِ 19 لَـٰكِنِ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّن فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِيَّةٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ ۖ وَعْدَ ٱللَّهِ ۖ لَا يُخْلِفُ ٱللَّهُ ٱلْمِيعَادَ 20

کیا پس جو شخص کہ ثابت ہو گئی اس پر بات عذاب کی، کیا پس آپ چھڑا لیں گے اس کو جو آگ میں ہے؟(19) لیکن وہ لوگ جو ڈر گئے اپنے رب سے ، ان کے لیے بالاخانے ہیں، ان کے اوپر(اور )بالاخانے ہیں بنائے ہوئے، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں(یہ ہے) وعدہ اللہ نے ، نہیں خلاف کرتا اللہ اپنے وعدے کے (20)

[19] یعنی وہ شخص جس کے گمراہی، عناد اور کفر پر جمے رہنے کے باعث، اس پر عذاب کا حکم واجب ہو گیا، تو اس کی ہدایت کے لیے آپ کے پاس کوئی چارہ نہیں اور نہ ہی آپ اس شخص کو کسی صورت میں آگ سے بچا سکتے ہیں جو آگ میں گرچکا ہو۔

[20] ہر قسم کی غنا اور فوزوفلاح صرف تقویٰ شعار لوگوں کے لیے ہے جن کے لیے اکرام و تکریم اور مختلف اقسام کی نعمتیں تیار کی گئی ہیں جن کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ ﴿لَهُمۡ غُرَفٌ ﴾ یعنی ان کے لیے آراستہ کیے گئے بالاخانے ہیں جن کی خوبصورتی، حسن اور صفائی کی بنا پر ان کے اندر صاف دیکھا جاسکے گا اور وہ اپنی بلندی کی وجہ سے یوں نظر آئیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں غروب ہونے والا ستارہ۔ بنابریں فرمایا:﴿مِّنۡ فَوۡقِهَا غُرَفٌ ﴾ یعنی یہ بالا خانے ایک دوسرے کے اوپر ﴿مَّبۡنِيَّةٌ ﴾ سونے چاند کی اینٹوں سے تعمیر کیے گئے ہوں گے جن کو آپس میں جوڑنے کے لیے مشک کا گارا بنایا گیا ہوگا۔ ﴿تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔‘‘ جن کا پانی نہایت تیزی سے رواں ہو گایہ نہریں جنت کے خوبصورت باغات اور اس کے پاکیزہ درختوں کو سیراب کریں گی جن سے نہایت لذید قسم کے پھل اور پکے ہوئے میوے پیدا ہوں گے۔ ﴿وَعۡدَ اللّٰهِ١ؕ لَا يُخۡلِفُ اللّٰهُ الۡمِيۡعَادَ ﴾ ’’یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا‘‘ اس نے پرہیز گار لوگوں سے اس ثواب کا وعدہ کر رکھا ہے۔ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا، لہٰذا انھیں چاہیے کہ وہ تقویٰ کے تمام خصائل کو پورا کریں تاکہ ان کو پورا پورا اجر عطا کیا جائے۔