Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Yaseen
Sūrah 36

Yaseen

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 71–73

أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَآ أَنْعَـٰمًا فَهُمْ لَهَا مَـٰلِكُونَ 71 وَذَلَّلْنَـٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ 72 وَلَهُمْ فِيهَا مَنَـٰفِعُ وَمَشَارِبُ ۖ أَفَلَا يَشْكُرُونَ 73

کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک ہم نے پیدا کیے ان کے لیے، ان میں سے جن کو بنایا ہمارے ہاتھوں نے، چار پائے۔ پس وہ ان کے مالک ہیں (71) اور تابع کر دیا ہم نے ان کو ان کے لیے، پس کچھ ان میں سے سواریاں ہیں ان کی اور کچھ کو ان میں سے وہ کھاتے ہیں (72) اور ان کے لیے ان میں فائدے ہیں اور پینے کی چیزیں ہیں، کیا پس نہیں وہ شکر کرتے؟ (73)

[73-71] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس بارے میں غور کریں کہ اس نے مویشیوں کو ان کے لیے مسخر کر دیا اور ان کو ان مویشیوں کا مالک بنایا، ان مویشیوں کے اندر ان کے لیے بے شمار فوائد رکھے، چنانچہ وہ ان پر سواری کرتے ہیں، ان پر بوجھ لادتے ہیں، ان کے ذریعے سے اپنے سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں، ان کا گوشت کھاتے ہیں، ان سے گرمی حاصل کرتے ہیں، ان کی اون، ان کی پشم اور ان کے بالوں میں ایک مدت تک ان کے لیے اثاثہ اور فائدہ ہے، نیز ان مویشیوں میں ان کے لیے زینت و جمال اور دیگر فوائد ہیں جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے۔ ﴿اَفَلَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’کیا یہ لوگ شکر ادا نہیں کرتے‘‘ اس اللہ تعالیٰ کا جس نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا ہے؟ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کو خالص کریں اور وہ ان نعمتوں سے اس طرح فائدہ نہ اٹھائیں کہ وہ عبرت اور غوروفکر سے خالی ہو۔