Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Yaseen
Sūrah 36

Yaseen

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 51–54

وَنُفِخَ فِى ٱلصُّورِ فَإِذَا هُم مِّنَ ٱلْأَجْدَاثِ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يَنسِلُونَ 51 قَالُوا۟ يَـٰوَيْلَنَا مَنۢ بَعَثَنَا مِن مَّرْقَدِنَا ۜ ۗ هَـٰذَا مَا وَعَدَ ٱلرَّحْمَـٰنُ وَصَدَقَ ٱلْمُرْسَلُونَ 52 إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَٰحِدَةً فَإِذَا هُمْ جَمِيعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُونَ 53 فَٱلْيَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْـًٔا وَلَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ 54

اور پھونکا جائے گا صور، تو یکایک وہ اپنی قبروں سے (نکل کر) اپنے رب کی طرف تیزی سے دوڑیں گے (51) کہیں گے، ہائے افسوس! کس نے اٹھایا ہمیں ہماری خواب گاہ سے؟ یہی ہے وہ جو وعدہ کیا تھا رحمٰن نے اور سچ کہا تھا رسولوں نے (52) نہیں ہو گی وہ مگر زور کی ایک آواز، پس یکایک وہ سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (53) پس آج نہیں ظلم کیا جائے گا کسی جان پر کچھ بھی اور نہ بدلہ دیے جاؤ گے تم مگر وہی جو تھے تم عمل کرتے (54)

[51] صور کی پہلی آواز گھبراہٹ اور موت کی آواز ہو گی اور یہ دوسری آواز مردوں کے زندہ ہونے اور اٹھنے کے لیے ہوگی۔ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ اپنی قبروں سے نکل کر جلدی سے اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے وہ کسی قسم کی تاخیر اور دیر نہ کر سکیں گے۔

[52] اس حال میں، رسولوں کی تکذیب کرنے والے بہت غم زدہ ہوں گے۔ وہ حسرت اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے:﴿يٰوَيۡلَنَا مَنۢۡ بَعَثَنَا مِنۡ مَّرۡقَدِنَا ﴾ ’’ہائے افسوس ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھایا؟‘‘ یعنی ہمیں ہماری قبروں میں نیند سے کس نے اٹھایا۔ بعض احادیث میں وارد ہے کہ اہل قبور صور پھونکے جانے سے تھوڑی دیر پہلے تک سو رہے ہوں گے۔ ان کو جواب دیا جائے گا:﴿هٰؔذَا مَا وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ وَصَدَقَ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ یعنی یہی وہ قیامت ہے جس کا تمھارے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے وعدہ کیا تھا۔ تمھاری آنکھوں کے سامنے ان کی صداقت ظاہر ہو گئی۔ اس مقام پر آپ یہ خیال نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ’’رحمٰن‘‘ کا ذکر محض اس کے وعدے کی خبر کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کا ذکر تو صرف اس بات سے آگاہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے کہ وہ اس روز اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو کبھی ان کے خیال میں بھی نہ گزرے ہوں گے اور حساب لگانے والوں نے بھی حساب نہ لگایا ہو گا، مثلاً: فرمایا: ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِنِ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾(الفرقان: 25؍26) ’’اس دن حقیقی اقتدار صرف رحمان کا ہو گا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾(طٰہٰ: 20؍108) ’’اور رحمٰن کے آگے آوازیں دب جائیں گی۔‘‘ اور اس طرح کے دیگر مقامات جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے صفاتی نام ’’رحمٰن‘‘ کا ذکر فرمایا ہے۔

[53]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ ’’نہیں ہوگا‘‘ اہل قبور کا اپنی قبروں سے اٹھنا ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک ہی زور کی چنگھاڑ۔‘‘ اسرافیلu صور پھونکیں گے اور تمام مردے جی اٹھیں گے ﴿فَاِذَا هُمۡ جَمِيۡعٌ لَّـدَيۡنَا مُحۡضَرُوۡنَ ﴾ اولین و آخرین اور جن و انس سب ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے تاکہ ان کے اعمال کا حساب لیا جائے۔

[54]﴿فَالۡيَوۡمَ لَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’پس اس روز کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے گی نہ ان کی برائیوں میں اضافہ۔ ﴿وَّلَا تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی جس خیروشر کا تم ارتکاب کرو گے صرف اسی کی تمھیں جزا و سزا ملے گی۔ پس جس نے بھلائی پائی وہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرے جسے اس کے علاوہ کچھ اور ملا تو اسے صرف اپنے آپ کو ملامت کرنی چاہیے۔