Luqman
This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.
Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21
أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱلْفُلْكَ تَجْرِى فِى ٱلْبَحْرِ بِنِعْمَتِ ٱللَّهِ لِيُرِيَكُم مِّنْ ءَايَـٰتِهِۦٓ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ 31 وَإِذَا غَشِيَهُم مَّوْجٌ كَٱلظُّلَلِ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمْ إِلَى ٱلْبَرِّ فَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِـَٔايَـٰتِنَآ إِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُورٍ 32
کیا نہیں دیکھا آپ نے بے شک کشتی چلتی ہے سمندر میں ساتھ فضل اللہ کے، تاکہ دکھائے وہ تمھیں اپنی کچھ نشانیاں، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں ہر بڑے صابر شاکر کے لیے (31) اور جب ڈھانپ لیتی ہے انھیں کوئی (بڑی) موج، مانند سائبانوں کے، تو پکارتے ہیں وہ اللہ کو، خالص کرتے ہوئے اس کے لیے دین (پکار) کو ، پھر جب وہ نجات دے دیتا ہے ان کو خشکی کی طرف تو کوئی ہی ان میں سے عہد پر قائم رہنے والا ہوتا ہے، اور نہیں انکارکرتا ہماری آیتوں کا مگر ہر عہد توڑنے والا ناشکرا ہی (32)
[31] کیا تو نے اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی رحمت اوراپنے بندوں پر اس کی عنایت کے آثار نہیں دیکھے؟ اس نے سمندر کو مسخر کیا جس میں اس کے حکم قدری اور اس کے لطف و احسان سے کشتیاں چلتی ہیں۔ ﴿لِيُـرِيَكُمۡ مِّنۡ اٰيٰتِهٖ﴾ ’’تاکہ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے۔‘‘ ان نشانیوں میں نفع اور عبرت ہے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ ’’بے شک اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکرکرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ پس یہ وہ لوگ ہیں جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، وہ ہر تکلیف پر صبر کرتے ہیں اور خوشی پر شکر کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو چھوڑ کر اس کی اطاعت پر صبر کرتے ہیں، اس کی قضا و قدر پر صبر کرتے اور اس کی دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اس کا شکر کرتے ہیں۔
[32] اللہ تعالیٰ لوگوں کا حال بیان کرتا ہے کہ جب لوگ سمندر میں سفر کرتے ہیں اور سمندر کی موجیں چھتری کی مانند ان پر چھا جاتی ہیں تب وہ اللہ کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے صرف اسی کو پکارتے ہیں۔ ﴿فَلَمَّا نَجّٰىهُمۡ اِلَى الۡـبَرِّ ﴾ ’’ پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر لے آتا ہے۔‘‘ تو وہ دو گروہوں میں منقسم ہو جاتے ہیں: ان میں سے ایک گروہ کے لوگ درمیانی راہ پر چلنے والے ہیں، یعنی کامل طریقے سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ وہ گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور ایک گروہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری کر کے اس کی نعمت کا انکار کرتا ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَمَا يَجۡحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ ﴾ ’’اور ہماری آیتوں کا وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن ہیں۔‘‘ ان کی بدعہدی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے رب سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے سمندر اور اس کی سختیوں سے انھیں نجات دی تو وہ اس کے شکر گزار بندے بنیں گے۔ پس اس فریق نے بد عہدی کی اپنے عہد کو پورا نہ کیا اور اس پر مستزاد یہ کہ ﴿كَفُوۡرٍ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے سخت ناشکرے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ان سختیوں سے نجات دی ہو کیا اس کے لیے اس کا شکر ادا کرنے کے سوا کچھ اور لائق ہے؟