Ar-Room
This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.
Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21
وَلَئِنْ أَرْسَلْنَا رِيحًا فَرَأَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ يَكْفُرُونَ 51 فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ ٱلْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْا۟ مُدْبِرِينَ 52 وَمَآ أَنتَ بِهَـٰدِ ٱلْعُمْىِ عَن ضَلَـٰلَتِهِمْ ۖ إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَن يُؤْمِنُ بِـَٔايَـٰتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ 53
اور البتہ اگر بھیجیں ہم ایسی ہوا کہ وہ دیکھیں اس (کھیتی) کو زرد پڑنے والی ،تو البتہ وہ ہوجائیں بعد اس کے ناشکری کرنے والے (51) پس بلاشبہ آپ نہیں سنا سکتے مُردوں کو اور نہیں سنا سکتے آپ بہروں کو (اپنی) پکار جب وہ لوٹ جائیں پیٹھ پھیر کر (52) اور نہیں آپ ہدایت کرنے والے اندھوں کو ان کی گمراہی سے، نہیں سنا سکتے آ پ مگر انھی (لو گوں)کو جو ایمان لاتے ہیں ہماری آیتوں پر، پس وہی ہیں فرماں بردار (53)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق کا حال بیان کرتا ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کے سایہ کناں ہونے، زمین کے مر جانے کے بعد اس کے زندہ ہونے پر بہت خوش ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اس بارش کے بعد اگنے والی نباتات اور ان کی کھیتیوں پر نقصان دہ اور انھیں تلف کر دینے والی ہوا بھیج دے۔ ﴿فَرَاَوۡهُ مُصۡفَرًّا ﴾ ’’لہٰذا وہ اس (کھیتی) کو زرد پڑتا دیکھیں‘‘ جو تلف ہونے کی حالت کو پہنچ چکی ہے ﴿لَّظَلُّوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ يَكۡفُرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے لگ جائیں گے‘‘ اور اس کی گزشتہ نعمتوں کو بھول جائیں گے۔ ان لوگوں کو وعظ و نصیحت اور زجروتوبیخ کوئی فائدہ نہیں دیتی۔
[52]﴿فَاِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰى وَلَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ ﴾ ’’بلاشبہ آپ مردوں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں نہ بہروں کو‘‘ خاص طور پر اس وقت ﴿اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب یہ پیٹھ پھیر کر جا رہے ہوں‘‘ تب تو آپ ان کو بدرجہ اولیٰ نہیں سنا سکتے کیونکہ ان کے اندر اطاعت اور نفع بخش سماعت کے موانع بہت زیادہ ہیں جس طرح آوازِ حسی کے سننے سے بہت سے موانع ہوتے ہیں۔
[53]﴿وَمَاۤ اَنۡتَ بِهٰؔدِ الۡعُمۡيِ عَنۡ ضَلٰلَتِهِمۡ ﴾ ’’اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر ہدایت دے سکتے ہیں‘‘ کیونکہ اندھے اپنے اندھے پن کے باعث دیکھ سکتے ہیں نہ ان میں دیکھنے کی صلاحیت ہی ہے ﴿اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’آپ صرف انھیں سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ سرتسلیم خم کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہدایت کا سنوانا صرف انھی لوگوں کو فائدہ دے سکتا ہے جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے، ہمارے احکام کی تعمیل کرتے اور ہمارے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں کیونکہ ان کے اندر وعظ و نصیحت کو قبول کرنے کا قوی داعیہ موجود ہے اور وہ ہے ہر آیت پر ایمان لانے اور مقدور بھر اللہ تعالیٰ کے احکام کو نافذ کرنے کے لیے مستعد رہنا۔