Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Aal-i-Imraan
Sūrah 3

Aal-i-Imraan

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 86–91

كَيْفَ يَهْدِى ٱللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا۟ بَعْدَ إِيمَـٰنِهِمْ وَشَهِدُوٓا۟ أَنَّ ٱلرَّسُولَ حَقٌّ وَجَآءَهُمُ ٱلْبَيِّنَـٰتُ ۚ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ 86 أُو۟لَـٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ ٱللَّهِ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةِ وَٱلنَّاسِ أَجْمَعِينَ 87 خَـٰلِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ ٱلْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ 88 إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ 89 إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بَعْدَ إِيمَـٰنِهِمْ ثُمَّ ٱزْدَادُوا۟ كُفْرًا لَّن تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلضَّآلُّونَ 90 إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَمَاتُوا۟ وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِم مِّلْءُ ٱلْأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ ٱفْتَدَىٰ بِهِۦٓ ۗ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ 91

کیسے ہدایت دے گا اللہ ان کو جو کافر ہوگئے بعد اپنے ایمان کے اور (بعد اس کے کہ) گواہی دی انھوں نے اس بات کی کہ بلاشبہ رسول برحق ہیں، اور آئیں ان کے پاس واضح نشانیاں، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(86) یہ لوگ، سزا ان کی (یہ ہے کہ) بے شک ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی(87) ہمیشہ رہیں گے وہ اس لعنت میں، نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(88) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی بعد اس کے اور (اپنی) اصلاح کر لی، تو بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(89) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بعد اپنے ایمان (لانے ) کے، پھر بڑھتے گئے وہ کفر میں، ہرگز نہیں قبول کی جائے گی ان کی توبہ، اور یہی لو گ ہیں گمراہ(90) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور مرے وہ ایسی حالت میں کہ وہ کافر ہی تھے تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا کسی ایک سے (بھی) ان میں سے، زمین بھر سونا (بھی)، اگرچہ وہ فدیے میں دے دے اسے، یہی لوگ ہیں، واسطے ان کے عذاب ہے دردناک اور نہیں ہوگا واسطے ان کے کوئی مددگار(91)

[88-86] یہ استفہام استبعاد کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے، جنھوں نے ایمان لاکر اور رسول کے سچا ہونے کی گواہی دینے کے بعد کفر اور گمراہی کو اختیار کرلیا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ انھوں نے ظلم کیا، اور حق کو پہچان کر اسے ترک کیا۔ اور ظلم اور سرکشی کرتے ہوئے اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے باطل کو اختیار کرلیا، حالانکہ انھیں معلوم ہے کہ وہ باطل ہے، تو انھیں ہدایت کی توفیق نہیں ملتی۔ ہدایت کی امید اس شخص کے لیے کی جاسکتی ہے جس نے حق کو نہ پہچانا ہو، لیکن اسے حق کی تلاش ہو۔ ایسے شخص کے لیے ممکن ہے کہ اللہ اس کے لیے ہدایت کے اسباب میسر فرمادے، اور گمراہی کے اسباب سے بچالے۔ پھر ان ظالموں اور ضدی لوگوں کی دنیوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ جَزَآؤُهُمۡ اَنَّ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةَ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’ان کی یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ ان کے عذاب کو ہلکا نہیں کیا جائے گا، نہ انھیں مہلت دی جائے گی‘‘ یعنی ان کا عذاب نہ تو لحظہ بھر کے لیے ختم کیا جائے گا، نہ لحظہ بھر کے لیے ہلکا کیا جائے گا۔ نہ انھیں مہلت دی جائے گی، کیونکہ مہلت کا زمانہ ختم ہوگیا، اور اللہ نے ان کا عذر ختم کردیا۔ یعنی اتنی عمر دے دی جس میں اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو ظاہر ہوجاتی۔ اب انھیں اگر دوبارہ دنیا میں آنے کا موقع دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے، جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔

[91-89] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کرے۔ پھر گمراہی میں آگے ہی آگے بڑھتا جائے، ہدایت کوچھوڑے رکھے، ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ یعنی اسے توبہ کی توفیق ہی نہیں ملتی جو قبول ہوسکے، اس لیے اللہ تعالیٰ انھیں ڈھیل دیتا ہے تو وہ گمراہی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(الانعام:6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے۔ جیسے یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف:61؍5) ’’جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے‘‘ گناہوں سے گناہ پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طورپر جو شخص سیدھا راستہ چھوڑ دے اور کفر عظیم کا ارتکاب کرے، حالانکہ اس پر حجت قائم ہوچکی ہو، اور اللہ نے اس کے لیے دلائل و براہین کو واضح کردیا ہو۔ کیونکہ اس نے خود رب کی رحمت کے اسباب کو منقطع کرنے کی کوشش کی، اور اپنے لیے توبہ کا دروازہ خود ہی بند کرلیا، لہٰذا گمراہی ایسے ہی لوگوں میں محصور ہوگئی ہے۔ اللہ نے فرمایا:﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الضَّآلُّوۡنَ ﴾ ’’یہی لوگ گمراہ ہیں‘‘ اس سے بڑی گمراہی کیا ہوسکتی ہے کہ انسان آنکھوں سے دیکھ کر سیدھی راہ کو ترک کردے۔ یہ کافر اگر موت تک اپنے کفر پر قائم رہیں تو ان کے لیے ہلاکت اور ابدی بدنصیبی یقینی ہے، انھیں کسی چیز سے فائدہ نہیں ہوگا۔ ایسا شخص اگر زمین بھر سونا فدیہ دے کر اللہ کے عتاب سے بچنا چاہے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ ہمیشہ دردناک عذاب میں پڑا رہے گا۔ نہ کوئی اس کی سفارش کرے گا، نہ مدد۔ نہ کوئی اس کی فریاد سنے گا، نہ کوئی اللہ کے عذاب سے بچا سکے گا۔ یہ لوگ ہر خیر سے مایوس ہیں۔ ان کے لیے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اللہ ہمیں ان کے حال سے محفوظ رکھے۔