Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Aal-i-Imraan
Sūrah 3

Aal-i-Imraan

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 12–13

قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ ۚ وَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ 12 قَدْ كَانَ لَكُمْ ءَايَةٌ فِى فِئَتَيْنِ ٱلْتَقَتَا ۖ فِئَةٌ تُقَـٰتِلُ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْىَ ٱلْعَيْنِ ۚ وَٱللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِۦ مَن يَشَآءُ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُو۟لِى ٱلْأَبْصَـٰرِ 13

کہہ دیجیے واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، عنقریب مغلوب کیے جاؤ گے تم اور اکٹھے کیے جاؤ گے جہنم کی طرف، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے(12) تحقیق ہے تمھارے لیے (عظیم) نشانی ان دو گروہوں میں جو باہم (لڑائی کے لیے) ملے، ایک گروہ لڑتا تھا اللہ کی راہ میں اور دوسرا کافر تھا، وہ (مسلمان) دیکھتے تھے ان کو اپنے سے دگنا، دیکھنا (ظاہری) آنکھ سےاور اللہ قوت دیتا ہے ساتھ اپنی نصرت کے جس کو چاہتا ہے، بلاشبہ اس میں ، البتہ عبرت ہے واسطے اہل بصیرت کے(13)

[13,12] اس کے بعد فرمایا: ﴿قُلۡ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا سَتُغۡلَبُوۡنَ وَتُحۡشَرُوۡنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمِهَادُ﴾’’(اے محمدﷺ)کافروں سے کہہ دیجیے کہ تم عنقریب مغلوب کیے جاؤ گے۔ اور جہنم کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے۔‘‘ اس میں مومنوں کی مدد اور فتح کا اشارہ ہے اور کافروں کو تنبیہ ہے۔ جیسے اللہ نے فرمایا تھا ویسے ہی ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں یعنی مشرکین، یہود اور نصاریٰ جیسے کافروں کے خلاف مومنوں کی مدد فرمائی۔ قیامت تک وہ اپنے مومن بندوں اور لشکروں کی مدد فرماتا رہے گا۔ اس میں ایک عبرت ہے اور قرآن کی ایسی نشانی ہے جو آنکھوں سے دیکھی جاسکتی ہے۔ اللہ نے بتایا کہ کافر دنیا میں مغلوب ہونے کے ساتھ ساتھ قیامت کے دن جمع کرکے جہنم کی طرف ہانک دیے جائیں گے جو برا ٹھکانا ہے۔ اور ان کے بد اعمال کا برا بدلہ ہے۔ ﴿قَدۡ كَانَ لَكُمۡ اٰيَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے نشانی تھی‘‘ یعنی عظیم عبرت تھی۔ ﴿فِيۡ فِئَتَيۡنِ الۡتَقَتَا﴾ ’’ان دو جماعتوںمیں جو گتھ گئی تھیں۔ یہ غزوۂ بدر کے موقع پر ہوا۔ ﴿فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾’’ایک جماعت اللہ کی راہ میں لڑ رہی تھی۔‘‘ یہ رسول اللہﷺاور صحابہ کرام تھے۔ ﴿وَاُخۡرٰؔى كَافِرَةٌ﴾ ’’اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا۔‘‘ یعنی کفار قریش جو فخر و تکبر کے ساتھ لوگوں کو دکھانے کے لیے اور اللہ سے روکنے کے لیے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں جماعتوں کو بدر کے میدان میں اکٹھا کردیا۔ مشرکوں کی تعداد مومنوں سے کئی گنا تھی، اس لیے فرمایا:﴿يَّرَوۡنَهُمۡ مِّثۡلَيۡهِمۡ رَاۡيَ الۡعَيۡنِ﴾ ’’وہ انھیں اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا دیکھتے تھے۔‘‘ یعنی مومن دیکھ رہے تھے کہ کافر تعداد میں ان سے بہت زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ دگنے سے زیادہ تھا۔ (یعنی کفار کی تعداد تین گنا سے زائد تھی) اللہ نے مومنوں کی مدد کی تو انھوں نے کفار کو شکست دی، ان کے سرداروں کو تہ تیغ کیا اور بہت سے افراد کو قید کرلیا۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ جو کوئی اللہ کے دین کی مدد کرتا ہے، اللہ اس کی مدد کرتا ہے، اور جو کفر کرتا ہے اللہ اسے چھوڑ دیتا ہے۔ اس میں آنکھوں والوں کے لیے عبرت ہے۔ یعنی جن کی بصیرت اور عقل کامل ہے، جس کی وجہ سے وہ دیکھ رہے ہیں کہ جس جماعت کی مدد کی گئی ہے وہی اہل حق ہیں اور دوسرے باطل پر ہیں۔ ورنہ محض ظاہری اسباب، سامان اور تعداد پر نظر رکھنے والا یہی فیصلہ کرسکتا ہے کہ اس چھوٹی سی جماعت کا اتنی بڑی جماعت پر فتح پانا بالکل محال اور ناممکن ہے۔ لیکن بصارت سے نظر آنے والے ان اسباب کے پیچھے ایک عظیم تر سبب بھی ہے۔ جسے بصیرت، ایمان اور توکل علی اللہ کی نظر ہی دیکھ سکتی ہے۔ اور وہ سبب ہے اللہ کا اپنے مومن بندوں کو تقویت بخشنا اور اپنے کافر دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرنا۔