Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Ankaboot
Sūrah 29

Al-Ankaboot

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 56–59

يَـٰعِبَادِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّ أَرْضِى وَٰسِعَةٌ فَإِيَّـٰىَ فَٱعْبُدُونِ 56 كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ ٱلْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ 57 وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُم مِّنَ ٱلْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا ۚ نِعْمَ أَجْرُ ٱلْعَـٰمِلِينَ 58 ٱلَّذِينَ صَبَرُوا۟ وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ 59

اے میرے (وہ) بندو جو ایمان لائے ہو! بلاشبہ میری زمین(بہت) وسیع ہے، پس صرف میری ہی عبادت کرو تم(56) ہر نفس چکھنے والا ہے موت کو، پھر ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے تم (57) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک ، البتہ ضرور جگہ دیں گے ہم انھیں جنت کے بالاخانوں میں، بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ، بہت اچھا اجر ہے (نیک) عمل کرنے والوں کا(58) وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے (ہیں)(59)

[59-56] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يٰعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ ’’اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو!‘‘ اور جنھوں نے میرے رسول کی تصدیق کی ہے ﴿اِنَّ اَرۡضِيۡ وَاسِعَةٌ فَاِيَّايَ فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ ’’میری زمین فراخ ہے، پس تم میری ہی عبادت کرو۔‘‘ یعنی جب کسی سرزمین میں تمھارے لیے اپنے رب کی عبادت کرنا ممکن نہ رہے تو اس کو چھوڑ کر کسی اور سرزمین میں چلے جاؤ جہاں تم اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکو۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جگہیں بہت کشادہ ہیں۔ تمھارا معبود ایک ہے اور موت تمھیں آ کر رہے گی ، پھر تمھیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے پس وہ اس شخص کو بہترین جزا سے نوازے گا جس نے ایمان اور عمل صالح کو اکٹھا کیا، وہ انھیں رفیع الشان بالاخانوں اور خوبصورت منازل میں نازل کرے گا وہاں وہ تمام چیزیں جمع ہوں گی جسے نفس چاہتے اور آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں اور ان منازل میں تم ہمیشہ رہو گے۔ ﴿نِعۡمَ ﴾ نعمتوں بھری جنت کے اندر یہ منازل بہترین ﴿اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَ﴾ ’’اجر ہے عمل کرنے والوں کا‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے۔ ﴿الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا ﴾ ’’جنھوں نے صبر کیا‘‘ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر ﴿وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ ﴾ اور وہ اس معاملے میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ عبودیت الٰہی پر ان کا صبر اس بارے میں سخت جدوجہد اور شیطان کے خلاف بہت بڑی جنگ کا تقاضا کرتا ہے، جو اس عبادت میں خلل ڈالنے کے لیے ان کو دعوت دیتا رہتا ہے۔ان کا توکل، اللہ تعالیٰ پر ان کے بہت زیادہ اعتماد کا مقتضی ہے نیز اللہ تعالیٰ پر ان کا حسن ظن اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ ان کے اعمال کو متحقق کر کے پایۂ تکمیل کو پہنچائے گا جن کا انھوں نے عزم کیا ہے۔ ہر چند کہ توکل، صبر کے اندر داخل ہے تاہم یہاں اس کو الگ بیان کیا ہے کیونکہ بندہ ہر فعل کے کرنے اور ترک کرنے میں، جن کا انھیں حکم دیا گیا ہے، توکل کا محتاج ہے اور کسی کام کو ترک کرنا یا اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانا، توکل علی اللہ کے بغیر اتمام پذیر نہیں ہوتا۔