Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Maryam
Sūrah 19

Maryam

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 88–95

وَقَالُوا۟ ٱتَّخَذَ ٱلرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا 88 لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْـًٔا إِدًّا 89 تَكَادُ ٱلسَّمَـٰوَٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ ٱلْأَرْضُ وَتَخِرُّ ٱلْجِبَالُ هَدًّا 90 أَن دَعَوْا۟ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا 91 وَمَا يَنۢبَغِى لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا 92 إِن كُلُّ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ إِلَّآ ءَاتِى ٱلرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا 93 لَّقَدْ أَحْصَىٰهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا 94 وَكُلُّهُمْ ءَاتِيهِ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ فَرْدًا 95

اور کہا انھوں نے، بنائی ہے رحمٰن نے اولاد (88) البتہ تحقیق آئے ہو تم ایک بات بڑی بھاری کو (89) قریب ہیں آسمان کہ پھٹ پڑیں اس (بات) سے اورشق ہو جائے زمین اور گر پڑیں پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر (90)(اس بات سے) کہ دعوی کیا کہ انھوں نے رحمٰن کے لیے اولاد کا (91) اور نہیں لائق رحمٰن کے یہ کہ وہ بنائے اولاد (92) نہیں ہے کوئی بھی (مخلوق) آسمانوں اور زمین میں مگر آنے والی ہے وہ رحمٰن کے پاس غلام بن کر (93) البتہ تحقیق شمار کر رکھا ہے اس نے ان کواور گن رکھا ہے انھیں گننا (94) اور وہ سب آنے والے ہیں اللہ کے پاس دن قیامت کے تنہا تنہا(95)

[88] یہ ان لوگوں کے قول کی قباحت کا بیان ہے جو عناد اور انکار پر جمے ہوئے ہیں اور اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ رحمٰن نے اپنا بیٹا بنایا ہے۔ جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں ﴿ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’مسیح اللہ کا بیٹا ہے‘‘ یہودی کہتے ہیں ﴿ عُزَيۡرُ ِ۟ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’عزیر اللہ کا بیٹا ہے‘‘ اور مشرکین کہتے ہیں ’’فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند اور بڑا ہے۔

[91-89]﴿ لَقَدۡ جِئۡتُمۡ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی تم نے بدترین بات کہی ہے۔ یہ اتنی بڑی بات ہے کہ ﴿ تَكَادُ السَّمٰوٰتُ ﴾ قریب تھا کہ آسمان اپنی عظمت اور صلابت کے باوصف ﴿يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡهُ ﴾ اس قول سے پھٹ جاتے۔ ﴿وَتَنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ ﴾ اور زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو جاتی۔ ﴿ وَتَخِرُّ الۡجِبَالُ هَدًّا ﴾ اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر برابر ہو جاتے۔ ﴿ اَنۡ دَعَوۡا لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا﴾ ’’اس بنا پر کہ انھوں نے رحمٰن کی اولاد ٹھہرائی۔‘‘ یعنی اس بدترین دعویٰ کی بنا پر ان تمام مخلوقات کی حالت یہ ہوتی جو ان آیات میں ذکر کی گئی ہے۔

[92] جبکہ حال یہ ہے ﴿مَا يَنۢۡبَغِيۡ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ رحمان کے یہ لائق نہیں ہے اور نہ یہ ہو ہی سکتا ہے ﴿ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ وَلَدًا﴾ ’’کہ وہ اولاد بنائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے لیے بیٹا بنانا اس میں نقص اور احتیاج پر دلالت کرتا ہے جبکہ وہ بے نیاز اور حمید ہے، نیز بیٹا اپنے باپ کی جنس سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی شبیہ ہے نہ مثیل اور نہ اس کی نظیر ہے۔

[93]﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾ ’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ، وہ سب رحمٰن کے غلام بن کر آنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی ذلیل اور مطیع ہو کر بغیر کسی نافرمانی کے رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے، فرشتے، جن و انس سب اللہ کے مملوک اور اس کے دست تصرف کے تحت ہیں ، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے… جب اس کی شان اور اس کے اقتدار کی عظمت یہ ہو، تب اس کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟

[94]﴿ لَقَدۡ اَحۡصٰىهُمۡ وَعَدَّهُمۡ عَدًّا﴾ اس کا علم زمین اور آسمانوں کی تمام خلائق کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے اعمال کو شمار کر رکھا ہے وہ گمراہ ہوتا ہے نہ بھولتا ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔

[95]﴿ وَؔكُلُّهُمۡ اٰتِيۡهِ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَرۡدًا﴾ ’’ہر ایک اس کے پاس قیامت کے دن اکیلا ہی آئے گا۔‘‘ یعنی اولاد، مال و دولت اور اعوان و انصار اس کے ساتھ نہ ہوں گے۔ اس کے ساتھ اس کے عمل کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اس کے اعمال کا بدلہ دے گا اور اس سے پورا پورا حساب لے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے تو جزا بھی اچھی ہو گی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو ان کی جزا بھی بری ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام:6؍94) ’’تم اسی طرح ہمارے پاس تن تنہا آئے ہو جس طرح پہلی مرتبہ ہم نے تمھیں اکیلا پیدا کیا تھا۔‘‘