Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Hud
Sūrah 11

Hud

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verse 116

فَلَوْلَا كَانَ مِنَ ٱلْقُرُونِ مِن قَبْلِكُمْ أُو۟لُوا۟ بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْفَسَادِ فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْهُمْ ۗ وَٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مَآ أُتْرِفُوا۟ فِيهِ وَكَانُوا۟ مُجْرِمِينَ 116

پس کیوں نہ ہوئے ان امتوں میں سے جو تم سے پہلے تھیں کچھ لوگ عقل و بصیرت والے کہ وہ روکتے فساد (کرنے) سے زمین میں مگر تھوڑے ہی ان لوگوں میں سے جنھیں نجات دی ہم نے ان میں سے اور پیچھے لگے وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، ان چیزوں کے کہ آسودگی دیے گئے تھے وہ (ظالم) ان چیزوں میں اور تھے وہ مجرم (116)

[116]جب اللہ تعالیٰ نے گزشتہ امتوں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا جنھوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا تھا، نیز یہ کہ ان میں سے اکثر وہ لوگ تھے جنھوں نے کتب سماویہ کے ماننے والوں سے انحراف کیا، حتیٰ کہ ان لوگوں نے بھی جوکتب الٰہیہ کو ماننے والے تھے اور یہ چیز اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ گزشتہ ادیان انعدام و اضمحلال کا شکار ہوگئے تو اب ذکر فرمایا کہ گزشتہ قوموں میں ایسے اصحاب خیر کیوں نہ ہوئے جو لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاتے رہتے، فساد اور ہلاکت سے روکتے رہتے تو ان سے کچھ فائدہ حاصل ہوتا جب تک ان کے ادیان باقی رہتے۔ مگر ایسے لوگ بہت ہی قلیل تھے۔اس سارے معاملے کی غرض و غایت یہ ہے کہ گزشتہ امتوں کے جو تھوڑے لوگوں نے نجات پائی تو انھوں نے انبیاء و مرسلین کی اتباع اور اقامت دین کی وجہ سے نجات پائی، نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حجت بن گئے جس کو اس نے ان کے ہاتھوں پر جاری کیا تاکہ جو ہلاک ہو تو دلیل کی بنا پر ہلاک ہو اور زندہ رہے تو دلیل ہی سے زندہ رہے۔﴿ وَاتَّبَعَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَاۤ اُتۡرِفُوۡا فِيۡهِ ﴾ ’’اور پیچھے پڑے رہے ظالم اسی چیز کے جس میں ان کو عیش ملا‘‘ یعنی وہ جن نعمتوں اور آسائشوں سے متمتع ہو رہے تھے انھی کے پیچھے پڑے رہے اور ان چیزوں کے بدلے انھوں نے کچھ اور نہیں چاہا۔ ﴿ وَكَانُوۡا مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تھے وہ گناہ گار‘‘ یعنی ان نعمتوں اور آسائشوں کے پیچھے پڑ کر انھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا، لہٰذا وہ عتاب کے مستحق ٹھہرے اور عذاب نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔اس آیت کریمہ میں اس امت کو ترغیب دی گئی ہے کہ ان کے اندر ایسے ہوش مند مصلحین ہونے چاہئیں جو ان امور کی اصلاح کریں جن کو لوگوں نے فاسد کر دیا ہے، جو اللہ کے دین کو قائم کرنے والے ہوں ، بھٹکے ہوؤں کو ہدایت کی طرف بلاتے رہیں ۔ اگر اس راہ میں تکلیفیں آئیں تو اس پر صبر کرتے رہیں اور وہ گمراہی کی تاریکیوں میں لوگوں کو بصیرت کی روشنی دکھاتے رہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا بلند ترین حال ہے جس کی طرف رغبت کرنے والے راغب ہوتے ہیں اور اسی حال کو اختیار کرنے والا مرتبۂ امامت پر فائز ہوتا ہے کیونکہ اس کا عمل خالص رب العالمین کے لیے ہے۔